data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260222-08-30
کراچی (اسٹاف ر پورٹر) سندھ اسمبلی نے ہفتے کو اپنے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد منظور کرلی جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور رہے گا۔ سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کوئی بھی کوشش تاریخ، آئین اور جمہوری اقدار کے منافی سمجھی جائے گی‘ ایسی کوئی بھی کوشش قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کے لیے خطرہ ہے‘ سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کی دوٹوک مذمت کرتے ہیں۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کہا کہ جو اس قرارداد کی مخالفت کرے گا اسے سندھ کا مخالف سمجھا جائے گا۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ پیپلز پارٹی کی رکن سعدیہ جاوید نے قراردادکی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی تائید کرتی ہیں‘گورنر صاحب کراچی کو لسانیت کی طرف کیوں لیکر جانا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے شبیر قریشی نے کہا کہ کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ سندھ ٹوٹ جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ سندھ ٹوٹے گا، نہ سندھ ٹوٹنے جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے عامر صدیقی نے کہا کہ گورنر ہائوس میں ایسی کونسی غلط بات کردی گئی کہ یہ قرارداد لانے کی نوبت آگئی‘ حکومت کی کارکردگی پر بات کرنا کیا گناہ ہے‘ یہ شہر ٹیکس جمع کرتا ہے اس کے ممبر کو یہ حق بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ قرارداد پاس کروا سکیں۔ ایم کیو ایم کے رکن طٰہٰ احمد نے کہا کہ یہ قراداد آئین کے خلاف ہے‘ آئین مزید صوبوں کے قیام کی اجازت دیتا ہے تو ہم صوبوں کی بات کیسے نہیں کر سکتے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر 1973ء کا آئین ہوتا تو1948ء والی بات نہیں ہوتی۔2019ء میں بھی سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر قراداد منظور کی تھی۔اس وقت متحدہ قومی موومنٹ نے حمایت کی تھی‘ آج حمایت نہیں کر رہے تو اس کا مطلب ہے دال میں کچھ کالا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر انعام شرجیل میمن نے کہا کہ جو بھی جائز طریقے سے اسمبلی میں پہنچے ہیں وہ قراداد کی حمایت کریں گے‘ تمام بلدیاتی نمائندے اختیارات کے تحت کام کر رہے ہیں۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی نے کہا کہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور