اسلام آباد (نیوزڈیسک) پی ٹی آئی رہنما تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ ملک میں امیر اور غریب میں فرق 30 سال میں سب سے زیادہ ہوچکا، غربت 28 فیصد سے متجاوز ، حکمران اپنے لئے طیارے خرید رہے ہیں۔

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران تیمور جھگڑا نے کہا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال کی جاری کردہ رپورٹ میں غربت کی شرح ہوشربا ہے۔ امیر اور غریب میں فرق 30 سال میں سب سے زیادہ ہوچکا ۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف غربت کی سطح 28 فیصد سے تجاوز کر گئی ۔ دوسری جانب حکمران اپنے لئے طیارے اور گاڑیاں خرید رہے ہیں ۔ 40 ارب روپے فائروال میں ڈبو دیئے گئے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔

اس موقع پر سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا برادر اسلامی ملک ایران پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ حکومت عالمی سطح پر ناکام ، معیشت تباہ اورعوام کی بس ہو گئی ہے ۔ ہمارا مطالبہ صرف غیرجانبدارانہ الیکشن اور بانی پی ٹی آئی کا علاج ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا