وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے پانچ نئے اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود نذر حسین شاہ نے اس اقدام کو بچوں کے تحفظ کے نظام میں ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس خطرے سے دوچار بچوں کی نشاندہی، رجسٹریشن، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کا مرکزی ادارہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے کے پانچ نئے اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس (CPUs) کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد صوبے بھر میں یونٹس کی تعداد بڑھ کر 24 ہو جائے گی۔ اس اہم فیصلے کے تحت خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے لیے مجموعی طور پر 119.
سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود نذر حسین شاہ نے اس اقدام کو بچوں کے تحفظ کے نظام میں ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس خطرے سے دوچار بچوں کی نشاندہی، رجسٹریشن، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کا مرکزی ادارہ ہیں۔ ان کے مطابق قانون کے تحت ہر ضلع میں یونٹ کا قیام لازمی ہے اور حکومت مرحلہ وار تمام اضلاع تک اس نظام کو توسیع دے گی۔ چیف چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن اعجاز محمد خان نے بتایا کہ فنڈز کے اجراء کے بعد ای ٹی ای اے کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں کا عمل جلد شروع کیا جائے گا تاکہ نئے یونٹس کو فوری طور پر فعال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہر یونٹ میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر، سوشل کیس ورکر اور ماہرِ نفسیات تعینات ہوں گے جو بچوں کو مکمل کیس مینجمنٹ اور قانونی معاونت فراہم کریں گے۔ حکام کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن یونٹس نہ صرف متاثرہ بچوں کو فوری امداد فراہم کریں گے بلکہ عوامی آگاہی، کمیونٹی کی شمولیت اور نچلی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں کے قیام کے ذریعے بچوں کو تشدد، استحصال اور زیادتی سے بچانے کے لیے جامع نظام تشکیل دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔