عمائدین ہنزہ نے سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن سے معافی کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
سابق مشیر اطلاعات ایمان شاہ نے عمائدین ہنزہ کے ہمراہ گلگت مین پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہنزہ، نگر اور غذر کے عوام کو اینٹی اسٹیٹ قرار دینا نہ صرف ان اضلاع کے عوام بلکہ شہدائے گلگت بلتستان کی قربانیوں کی توہین ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عمائدین ہنزہ نے سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن سے ان کے متنازعہ بیان پر معافی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ حفیظ الرحمن نے ایک گفتگو مین ہنزہ، غذر اور نگر میں ریاست مخالف عناصر کی بات کی تھی۔ سابق مشیر اطلاعات ایمان شاہ نے عمائدین ہنزہ کے ہمراہ گلگت مین پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہنزہ، نگر اور غذر کے عوام کو اینٹی اسٹیٹ قرار دینا نہ صرف ان اضلاع کے عوام بلکہ شہدائے گلگت بلتستان کی قربانیوں کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام بالخصوص ہنزہ، نگر اور غذر کے لوگ محب وطن، باشعور اور ریاست پاکستان کے وفادار ہیں، جنہوں نے ڈوگرہ راج کے خاتمے سے لے کر 1947ء، 1965ء، 1971ء کی جنگوں، کارگل وار اور دیگر قومی مواقع پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اینٹی اسٹیٹ اس فرد یا گروہ کو کہا جاتا ہے جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے یا ریاستی اداروں کے خلاف کارروائی کرے، جبکہ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ ملک و قوم کے دفاع میں پیش پیش رہے ہیں۔ ایسے میں انہیں ریاست مخالف قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایمان شاہ نے کہا کہ اگر حافظ حفیظ الرحمن بروقت عوام سے معافی مانگ لیتے تو معاملہ اس حد تک نہ بڑھتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپنے بیان کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے اے آئی کا حوالہ دینا عوامی تشویش میں اضافے کا سبب بنا۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت کو وضاحتی بیانات جاری کرنے کے بجائے کھلے عام عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت، ہنزہ اور غذر کے تینوں حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کو شدید سیاسی نقصان پہنچا ہے اور اس کا جواب عوام آئندہ انتخابات 2026ء میں دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب مسلم لیگ (ن) کے لیے نہ صرف نشستیں جیتنا بلکہ حکومت بنانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے حالیہ سیاسی شمولیتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہنزہ سے کامل جان اور غذر سے ظفر شادم خیل کی شمولیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شادم خیل آخری میٹنگ تک ان کے ساتھ تھے اور انہوں نے علیحدگی کے حوالے سے قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا۔ انہوں نے اس صورتحال کو “سر منڈاتے ہی اولے پڑ گئے” سے تعبیر کیا۔ ایمان شاہ نے کہا کہ میں بھی قوم پرست ہوں لیکن میرا انداز الگ ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری مہم کے حوالے سے عوام سے اپیل کی کہ شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، گالم گلوچ اور ذاتی حملوں سے گریز کریں اور سیاسی اختلاف کو مہذب انداز میں آگے بڑھائیں۔ پریس کانفرنس میں عمائدین ہنزہ نے بھی مطالبہ کیا کہ حافظ حفیظ الرحمن عوامی دل آزاری پر باقاعدہ معافی مانگیں تاکہ پیدا ہونے والی کشیدگی کا خاتمہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان پریس کانفرنس ایمان شاہ نے حفیظ الرحمن اور غذر کے نے کہا کہ انہوں نے کے عوام
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔