اعلامیہ کی رہنمائی اصول "سب کی فلاح، سب کی خوشی" پر مبنی ہے، جسکے مطابق اے آئی کے فوائد پوری انسانیت میں منصفانہ طور پر تقسیم ہونے چاہئیں۔ اسلام ٹائمز۔ اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026ء ہفتہ کے روز "نئی دہلی اعلامیہ برائے اے آئی امپیکٹ" کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس اعلامیے کی 89 ممالک، جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور فرانس سمیت کئی بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں، نے توثیق کی۔ اعلامیہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کو اقتصادی ترقی اور سماجی بہبود کے لئے بروئے کار لانے کے وسیع اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ اعلامیہ کی رہنمائی اصول "سروجن ہتائے، سروجن سکھائے" (سب کی فلاح، سب کی خوشی) پر مبنی ہے، جس کے مطابق اے آئی کے فوائد پوری انسانیت میں منصفانہ طور پر تقسیم ہونے چاہئیں۔

اعلامیہ کو عالمی اے آئی تعاون کے لئے سات کلیدی ستونوں کے گرد ترتیب دیا گیا ہے جن میں اے آئی وسائل کی جمہوریت۔ اقتصادی ترقی اور سماجی بھلائی۔ محفوظ اور قابلِ اعتماد اے آئی۔ سائنس کے لئے اے آئی۔ سماجی بااختیاری کے لئے رسائی۔ انسانی وسائل کی ترقی اور مضبوط، مؤثر و اختراعی اے آئی نظام۔ اعلامیہ میں بین الاقوامی تعاون اور کثیر فریقی شراکت داری کو فروغ دینے، قومی خودمختاری کے احترام اور قابلِ اعتماد و شفاف فریم ورک کے تحت اے آئی کی ترقی پر زور دیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ دنیا نے وزیراعظم کے انسانی مرکزیت پر مبنی اے آئی وژن کی توثیق کی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اعلامیہ مصنوعی ذہانت کو جامع، محفوظ اور پائیدار ترقی کے لئے استعمال کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اعلامیہ میں "وسودھیوا کٹمبکم" (دنیا ایک خاندان ہے) کے اصول کو اجاگر کرتے ہوئے ڈیجیٹل ڈھانچے کو مضبوط بنانے، سستی انٹرنیٹ رسائی کو یقینی بنانے اور اوپن سورس ماڈلز کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ تمام ممالک عوامی مفاد کے لئے اے آئی کو ترقی دے سکیں۔

دستاویز میں سائنسی تحقیق میں بین الاقوامی اشتراک، تحقیقی ڈھانچے کی بہتری، اے آئی کے ذریعے علم اور خدمات تک رسائی، اور اے آئی معیشت کے لئے مہارتوں کی تربیت و از سرِ نو تربیت کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ شرکاء نے اے آئی نظاموں کو توانائی کے لحاظ سے مؤثر اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے ان اصولوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گیا ہے اے آئی کے لئے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا