نئی دہلی اعلامیہ، 89 ممالک کا انسانی مرکزیت پر مبنی اے آئی وژن کی توثیق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اعلامیہ کی رہنمائی اصول "سب کی فلاح، سب کی خوشی" پر مبنی ہے، جسکے مطابق اے آئی کے فوائد پوری انسانیت میں منصفانہ طور پر تقسیم ہونے چاہئیں۔ اسلام ٹائمز۔ اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026ء ہفتہ کے روز "نئی دہلی اعلامیہ برائے اے آئی امپیکٹ" کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس اعلامیے کی 89 ممالک، جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور فرانس سمیت کئی بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں، نے توثیق کی۔ اعلامیہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کو اقتصادی ترقی اور سماجی بہبود کے لئے بروئے کار لانے کے وسیع اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ اعلامیہ کی رہنمائی اصول "سروجن ہتائے، سروجن سکھائے" (سب کی فلاح، سب کی خوشی) پر مبنی ہے، جس کے مطابق اے آئی کے فوائد پوری انسانیت میں منصفانہ طور پر تقسیم ہونے چاہئیں۔
اعلامیہ کو عالمی اے آئی تعاون کے لئے سات کلیدی ستونوں کے گرد ترتیب دیا گیا ہے جن میں اے آئی وسائل کی جمہوریت۔ اقتصادی ترقی اور سماجی بھلائی۔ محفوظ اور قابلِ اعتماد اے آئی۔ سائنس کے لئے اے آئی۔ سماجی بااختیاری کے لئے رسائی۔ انسانی وسائل کی ترقی اور مضبوط، مؤثر و اختراعی اے آئی نظام۔ اعلامیہ میں بین الاقوامی تعاون اور کثیر فریقی شراکت داری کو فروغ دینے، قومی خودمختاری کے احترام اور قابلِ اعتماد و شفاف فریم ورک کے تحت اے آئی کی ترقی پر زور دیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ دنیا نے وزیراعظم کے انسانی مرکزیت پر مبنی اے آئی وژن کی توثیق کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اعلامیہ مصنوعی ذہانت کو جامع، محفوظ اور پائیدار ترقی کے لئے استعمال کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اعلامیہ میں "وسودھیوا کٹمبکم" (دنیا ایک خاندان ہے) کے اصول کو اجاگر کرتے ہوئے ڈیجیٹل ڈھانچے کو مضبوط بنانے، سستی انٹرنیٹ رسائی کو یقینی بنانے اور اوپن سورس ماڈلز کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ تمام ممالک عوامی مفاد کے لئے اے آئی کو ترقی دے سکیں۔
دستاویز میں سائنسی تحقیق میں بین الاقوامی اشتراک، تحقیقی ڈھانچے کی بہتری، اے آئی کے ذریعے علم اور خدمات تک رسائی، اور اے آئی معیشت کے لئے مہارتوں کی تربیت و از سرِ نو تربیت کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ شرکاء نے اے آئی نظاموں کو توانائی کے لحاظ سے مؤثر اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے ان اصولوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گیا ہے اے آئی کے لئے
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :