حج 2026 کیلئے پاکستانی خدام الحجاج کی عالمی معیار کی جدید تربیت مکمل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
سٹی 42 : وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے حج 2026 کو پاکستانی عازمین کے لیے سہل بنانے کی جانب قدم اٹھاتے ہوئے انڈونیشیا، ترکیہ اور ملائیشیا کی طرز پر بین الاقوامی بہترین روایات پر مبنی ’خدام الحجاج‘ کی 10 روزہ جدید تربیت کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔
اتوار کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق پہلی مرتبہ پاکستانی خدام کو محض روایتی بریفنگ کے بجائے سروے آف پاکستان کے تیار کردہ ڈیجیٹل میپس، ریسکیو 1122 کی لائف سیونگ مہارتوں اور اسلام آباد پولیس کے کراؤڈ مینجمنٹ ماڈیولز کے ذریعے لیس کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عازمینِ حج کو مکہ، مدینہ اور مشاہیر (منیٰ، مزدلفہ، عرفات) میں کسی بھی مشکل کے وقت فوری اور پیشہ ورانہ مدد فراہم کرنا ہے۔ حج آپریشن شروع ہونے سے قبل خدام الحجاج کی سپیشلائزڈ ٹریننگ ہوگی۔
شہر میں 255 ٹریفک حادثات رپورٹ, 295 افراد زخمی
کوآرڈینیٹر مکہ و خدام الحجاج ذوالفقار خان نے بتایا کہ اس بار ہم نے عالمی معیار کا مطالعہ کر کے ٹریننگ ماڈیولز ترتیب دیے ہیں، ہم نے سروے آف پاکستان کے ماہرین کو مدعو کر کے اپنے خدام کو ڈیجیٹل میپ ریڈنگ سکھائی ہے تاکہ وہ سمارٹ فونز اور پاور پوائنٹ میپس کے ذریعے حاجیوں کی درست رہنمائی کر سکیں۔
10 دن کی اس تربیت میں پہلی بار ریسکیو 1122 کے ذریعے سی پی آر اور ایمرجنسی طبی امداد کی ’موک ایکسرسائزز‘ کروائی گئی ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ ٹریننگ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، ایک مشترکہ تربیت جو کہ مکمل ہو چکی ہے جبکہ دوسری ‘فنکشنل لیول کی ‘سپیشلائزڈ ٹریننگ حج آپریشن سے قبل مکمل کر لی جائے گی ۔
خبردار! اب مین ہول، اسٹریٹ لائٹس و دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچانے پر قید اور جرمانہ ہوگا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خدام الحجاج
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔