بیرونی قرضوں پر 2025 میں 3.59 ارب ڈالر سود کی ادائیگی کی گئی، وفاقی وزارت خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرض اور واجبات 138 ارب ڈالر ہیں جبکہ مالی سال 2022 میں سود کی ادائیگی 1.99 ارب ڈالر جبکہ 2025 میں 3.59 ارب ڈالر ہے۔
وفاقی وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کا بیرونی قرض زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی ہے، مجموعی بیرونی قرض اور واجبات 138 ارب ڈالر ہیں، جس میں بیرونی حکومتی قرض کا حجم تقریباً 92 ارب ڈالر اور بیرونی عوامی قرض کا 75 فیصد حصہ کثیرالجہتی اور دوطرفہ رعایتی ذرائع سے حاصل کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر اوسطاً تقریباً 4 فیصد سود ادا کر رہا ہے اور اس حوالے سے 8 فیصد کا دعویٰ گمراہ کن ہے، مالی سال 2022 میں سود کی ادائیگی 1.
اس حوالے سے بتایا گیا کہ سود کی ادائیگیوں میں 84 فیصد اضافے کی رپورٹ درست نہیں ہے جبکہ اصل اضافہ 80.4 فیصد ہے، جس میں آئی ایم ایف کو 1.50 ارب ڈالر ادائیگی سمیت 580 ملین ڈالر سود شامل ہے۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کو 1.54 ارب ڈالر، عالمی بینک کو 1.25 ارب ڈالر، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت 1.56 ارب ڈالر اور 94 ملین ڈالر سود کی مد میں ادائیگی کی گئی ہے، بیرونی کمرشل قرضوں کی مد میں تقریباً 3 ارب ڈالر ادائیگی، 327 ملین ڈالر سود شامل ہے۔
وفاقی وزارت خزانہ نے بتایا کہ سود میں اضافہ صرف قرضوں کے حجم میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہے، 2022-23 میں زرمبادلہ ذخائر ایک ماہ کی درآمدات سے کم ہو گئے تھے تاہم آئی ایم ایف ای ایف ایف پروگرام اور کثیرالجہتی فنڈنگ سے ذخائر کی بحالی ممکن ہوئی۔
مزید بتایا گیا کہ عالمی شرح سود میں اضافے سے بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھا، امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود 5.25 تا 5.50 فیصد تک بڑھائی تھی تاہم حکومت ذمہ دارانہ قرض انتظام اور معاشی استحکام کے لیے پرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزارت خزانہ سود کی ادائیگی ارب ڈالر ڈالر سود گیا کہ
پڑھیں:
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور خطے کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے اور دوبارہ بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔