وقاص عظیم:وفاقی حکومت کی جانب سے  بیرونی قرضوں پر8 فیصد سود کے دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئےانہیں گمراہ کن قرار دیدیا ہے۔پاکستان بیرونی قرضوں پر اوسطاً تقریباً4فیصد سود اداکر رہا ہے،مجموعی بیرونی قرض اور واجبات 138 ارب ڈالر ہیں۔

 وزارت خزانہ  کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق بیرونی قرضے پر8 فیصد سود کی ادائیگی کا دعویٰ گمراہ کن ہے،سود کی ادائیگیوں میں اضافہ 80.

4فیصدہے رپورٹ کردہ 84 فیصد درست نہیں،پاکستان کا بیرونی قرض زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی ہے، مجموعی بیرونی قرض اور واجبات 138 ارب ڈالرہیں،بیرونی حکومتی قرض کا حجم تقریباً 92 ارب ڈالر ہے، قرض کا 75فیصد حصہ کثیرالجہتی اور دوطرفہ رعایتی ذرائع سے حاصل کیا گیا،مالی سال 2022 میں سود کی ادائیگی 1.99 ارب اور2025 میں 3.59 ارب ڈالر تھی۔اس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) کو 1.50 ارب ڈالر ادائیگی اور 580 ملین ڈالر سود شامل ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کو 1.54 ارب ڈالرجبکہ  عالمی بینک کو 1.25 ارب ڈالر ادائیگی کی گئی ہے،نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت 1.56 ارب ڈالر ادائیگی کی گئی جس میں  94 ملین ڈالر سودشامل ہے،بیرونی کمرشل قرضوں کی مد میں تقریباً 3 ارب ڈالر کی ادائیگی اور 327 ملین ڈالر سوددیا گیا۔

شہر میں 255 ٹریفک حادثات رپورٹ, 295 افراد زخمی

وزارت خزانہ نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ صرف قرضوں کے حجم میں اضافے کی وجہ سے نہیں، مالی سال2022-23 میں زرمبادلہ ذخائر ایک ماہ کی درآمدات سے کم ہو گئے تھے،بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) ،ای ایف ایف پروگرام اور کثیرالجہتی فنڈنگ سے ذخائر کی بحالی ممکن ہوئی،عالمی شرح سود میں اضافے سے بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھا،امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود 5.25 تا 5.50 فیصد تک بڑھائی تھی، حکومت ذمہ دارانہ قرض انتظام اور معاشی استحکام کیلئےپرعزم ہے۔

خبردار! اب مین ہول، اسٹریٹ لائٹس و دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچانے پر قید اور جرمانہ ہوگا

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: حکومت گمراہ کن قرار حکومت کی ادائیگی فیصد سود ارب ڈالر

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا