Express News:
2026-06-02@20:42:09 GMT

رمضان اور حکومت کی نمک پاشی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

مقدس مذہبی تہوار ہر قوم کے لیے ان کے عقائد و عبادات کے حوالے سے ایک منفرد شناخت اور پہچان رکھتے ہیں۔ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے عقیدے اور ایمان کے مطابق مذہبی احترام کے ساتھ اپنے تہواروں کو مناتے ہیں۔

 دنیا کی تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں اور خطوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ رمضان المبارک مسلمانوں کا ایک خاص مذہبی تہوار ہے، روزہ تقویٰ، پرہیزگاری اور تزکیہ نفس کی علامت ہے۔ اس ماہ مقدس کا سب سے عظیم تحفہ نزول قرآن ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کے لیے راہ ہدایت اور مکمل طور پر ضابطہ حیات ہے جس پر عمل کر کے لوگ نجات کی منزل پا سکتے ہیں۔

رمضان المبارک کے آغاز سے چار روز پیشتر ہی مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں ایک بڑا اضافہ کرکے کروڑوں غریب عوام پر مہنگائی کا بم گرا دیا۔ پاکستان میں رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں غریبوں کی مشکلات میں غیر متوقع اضافہ ہو جاتا ہے۔ مہنگائی و گرانی کا جن یک دم بوتل سے باہر آ جاتا ہے غریب آدمی سحری و افطاری کا اہتمام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ گوشت، سبزی، دالیں، انڈے، دودھ، دہی اور سب سے بڑھ کر پھل فروخت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ منافع خور ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔

روزمرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جاتی ہیں۔ حکومت دعوے کرتی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران مہنگائی کنٹرول کرنے اور تمام اشیا ضرورت کی چیزوں کے نرخوں کو قابو رکھنے کے لیے بھرپور اور فول پروف انتظامات کرے گی تاکہ غریب آدمی بھی باآسانی روزوں کی برکتوں اور نعمتوں سے فیض یاب ہو سکے لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ موجودہ حکومت نے تو انتہا کر دی، آغاز رمضان سے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی میں اضافہ کر دیا۔ کیوں کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی بجلی، گیس، ڈیزل، پٹرول، مٹی کے تیل اور توانائی و ایندھن سے متعلق اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو چیزوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے جس کا براہ راست اثر اشیا خور و نوش اور روز مرہ استعمال کی تمام چیزوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جاتے ہیں۔

حکومت کو رمضان المبارک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ رمضان تو نیکیاں کمانے اور آسانیاں فراہم کرنے کا مہینہ ہے جیسا کہ خود وزیر اعظم شہباز شریف نے 38 ارب رمضان پیکیج کا اعلان کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ صرف بدنی عبادات نہیں بلکہ یہ وسائل تقسیم کرنے کا مہینہ ہے، حکومت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ 21 لاکھ خاندانوں تک 13 ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے 38 ارب روپے کسی سیاسی تفریق کے بغیر تقسیم کرے گی۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کل آبادی کا 44 فی صد سے بھی زائد ہے۔

گویا 24 کروڑ کی ملکی آبادی میں غریب افراد کی تعداد تقریباً 11 کروڑ سے بھی زائد ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان روزگار کی کمیابی کے باعث ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں اور ٹیکسوں کے غیر منتظم نظام کے باعث سیکڑوں صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ کار عرب ممالک میں سرمایہ کاری کو فوقیت دے رہے ہیں جس کے باعث ملک میں بے روزگاری کا گراف بڑھتا جا رہا ہے اور غربت میں اضافے کے باعث غریب لوگوں کی تعداد آیندہ ایک دو سال میں 50 فی صد سے تجاوزکرجائے گی۔ جو ارباب حکومت کے لیے یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ صرف ایک کروڑ لوگوں کو محض 13 ہزار روپے کی امداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔

ایک طرف ملک میں غربت و بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، لوگوں کے لیے رمضان کے مقدس مہینے میں سحر و افطار کا انتظام کرنا عذاب جاں بن گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نہ صرف گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ اپنے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اپنے اللوں تللوں پر خرچ کر رہی ہے۔ تازہ خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے 10 ارب روپے کا ایک طیارہ خریدا ہے جسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جاری کردہ غربت کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ اور پنجاب میں غربت میں ماضی کی نسبت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کو کفایت شعاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے نہ کہ فضول خرچیاں اور گرانی میں اضافہ غریب لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رمضان المبارک کی قیمتوں میں میں اضافہ اضافہ ہو کے باعث کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ