مسائل کے حل کیلیے ہاری عدالتیں قائم کی جائیں ، سندھ ہاری تحریک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہاری تحریک کی مرکزی کونسل کا اجلاس مرکزی صدر کامریڈ مصطفیٰ چانڈیو کی صدارت میں پلیجو ہاؤس، قاسم آباد حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ہاریوں کے مسائل، ہاری کارڈ، دریائے سندھ کے پانی پر ڈاکے، کارپوریٹ فارمنگ، فصلوں کے مناسب نرخ نہ ملنے، جعلی کھاد، بیج اور زرعی ادویات کے معاملات پر غور و خوض کرتے ہوئے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہاریوں اور چھوٹے آبادگاروں کے مسائل اور ہاریوں کے حقوق کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے دیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے لیے پورے سندھ میں کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے جائیں گے۔ ان کانفرنسوں اور سیمینارز میں ہاری رہنماؤں، زراعت کے شعبے سے وابستہ زرعی و آبپاشی ماہرین، سیاسی کارکنوں، صحافیوں، چھوٹے آبادگاروں اور وکلا کو مدعو کیا جائے گا۔اجلاس میں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کے حکمرانوں نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر ہاریوں، مزدوروں اور غریب عوام سے روٹی، کپڑا، مکان اور بنیادی حقِ زندگی چھین لیا ہے۔ ہاریوں کو زمیندار زبردستی بے دخل کر دیتے ہیں، لاکھوں روپے ہاریوں کے زمیندار ہڑپ کر جاتے ہیں، ہاریوں کے ساتھ کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا۔ ہاریوں کے مسائل کے حل کے لیے نہ ہاری عدالتیں ہیں، نہ ہاری منڈیاں اور نہ ہی ہاریوں کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات موجود ہیں۔ نہ ہاریوں کے لیے گھر ہیں اور نہ ہاری کالونیاں۔ ہاری اور مزدور بے یار و مددگار ہو چکے ہیں۔اجلاس میں کہا گیا کہ پنجاب حکومت نے ایک بار پھر چھ نہروں کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا پانی کے معاملے پر اجلاس بلایا، مگر سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے پانی کی ملکیت کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ پیپلز پارٹی کے حکمرانوں نے اقتدار کی خاطر سندھ کے پانی، زمینوں، وسائل، کینجھر، کارونجھر، ہالیجی، گورکھ سمیت سمندری بندرگاہوں کا سودا کر دیا ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر عرب ممالک اور دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں کو سندھ حکومت نے 13 لاکھ ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی شرمناک عمل ہے کہ 18 برسوں میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی جمہوری حکومتوں نے سندھ کے کسی ایک ہاری کو ایک ایکڑ زمین بھی نہیں دی۔اجلاس میں مزید کہا گیا کہ ایک طرف پنجاب کے حکمران دریائے سندھ کے پانی پر ڈاکے ڈال رہے ہیں، تو دوسری طرف جو تھوڑا بہت پانی آتا ہے وہ سرکاری بااثر زمینداروں کو دے دیا جاتا ہے، جبکہ چھوٹے آبادگاروں اور ہاریوں کو پانی نہیں ملتا۔ زرعی مشینری، کھاد، بیج اور زرعی ادویات پر بھاری ٹیکس لگا کر انہیں مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے اور سرمایہ داروں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا جاتا ہے، مگر جب ہاری اپنی فصل تیار کر کے مارکیٹ میں لاتے ہیں تو جان بوجھ کر فصلوں کے نرخ گرا دیے جاتے ہیں اور ہاریوں و آبادگاروں کا معاشی قتل کیا جاتا ہے۔اجلاس میں مرکزی جنرل سیکریٹری دریاء خان زئور، علی نواز ڈاہری، ڈاکٹر دلدار لغاری، اسماعیل خاصخیلی، بلاول لاشاری، شیخ جمال، شاہنواز خاصخیلی، نور محمد خاصخیلی، ساگر درس، مظہر میر جت، یعقوب کھوسو، ریاض پیچوہو، انور رند، پرشوتم اور شاہد سولنگی شریک تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا بادگاروں کہا گیا کہ ہاریوں کے اجلاس میں نہ ہاری جاتا ہے سندھ کے کے لیے
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔