قبائلی کشیدگی کے دوران مودی کا ایک اور سفاکانہ اقدام
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-01-9
منی پور( آن لائن) منی پور میں میتی ہندو اور کوکی زو قبائل کے درمیان کشیدگی کے دوران مودی نے ایک اور سفاک اور جانبدار اقدام اٹھاتے ہوئے سیاسی کٹھ پتلی بھارتی فوج کو انتہا پسند ہندوتوا نظریہ میں رنگ دیاہے۔بھارتی جریدہ اکنامک ٹائمز کے مطابق سفاک مودی نے بھارتی ریاست منی پور میں جاری قبائلی کشیدگی کے دوران کوکی زو مخالف مؤقف رکھنے والے سابق فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل (ر)ایل نشی کانتا سنگھ کو بطور مشیر وزیر اعلی مقرر کر دیا۔ عالمی ماہرین کے مطابق منی پور میں شدت اختیار کرتے ہوئے حالیہ فسادات کے دوران مخصوص قبیلے کے مخالف مشیر مقرر کرنا ریاستی جانبداری کی علامت ہے مودی مخالف قبیلہ کوکی۔زو کیخلاف سابق بھارتی فوجی افسر کی تقرری مخصوص قبیلہ کی نسل کشی اوراسکے کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ منی پور2023 میں قبائلی یکجہتی مارچ کے انعقاد کے بعد سے ریاست کیجانب سے بدترین نسلی تشدد کا شکار ہے۔ اکنامک ٹائمزکے مطابق منی پور میں نسلی تشدد میں 260 سے زاید افراد ہلاک، 1500 سے زاید زخمی اور 60 ہزار سے زاید لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، عالمی ماہرین نے منی پور میں جانبدار بھارتی فوجی افسر کی تقرری کو ہندوتوا حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: منی پور میں کے دوران
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔