ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: جنوبی افریقا نے بھارت کو 76 رنز سے بدترین شکست دے دی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-01-4
احمد آباد(مانیٹرنگ ڈ یسک)آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سپر ایٹ مرحلے کے گروپ ون کے میچ میں جنوبی افریقا نے بھارت کو 76 رنز سے شکست دے کر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کی مسلسل فتوحات پر بریک لگا دیا۔بھارت کے شہر احمد آباد میں کھیلے گئے میچ میں جنوبی افریقا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔جنوبی افریقا نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹ پر 187 رنز بنائے۔جنوبی افریقا کی جانب سے ڈیوڈ ملر نے 63، ڈیوالڈ بریسویس نے 45 اور اسٹبس نے 44 رنز اسکور کیے۔بھارت کی جانب سے جسپریت بھمراہ نے تین اور ارشدیپ سنگھ نے2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔188 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارتی بیٹنگ لائن بری طرح فلاپ ہوگئی اور اس کی وکٹیں پتوں کی طرح بکھرتی چلی گئیں۔بھارتی بیٹر دوبے نے سب سے زیادہ 42 رنز بنائے، ہاردک پانڈیا اور سوریا کماریادیو نے 18 ،18 رنزبنائے۔ان کے علاوہ کوئی بھی بھارتی بلے باز قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا اور پوری ٹیم 19 ویں اوور میں 111 رنز بنا کر ا?ؤٹ ہوگئی۔جنوبی افریقا کی جانب سے مارکو ینسن نے4،کیشو مہاراج نے 3 اور کاربن بوش نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔خیال رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم کو مسلسل 12 کامیابیوں کے بعد یہ پہلی شکست ہوئی ہے۔ دفاعی چیمپئن بھارت کی ٹیم 2024 کے ورلڈکپ کے تمام میچز سے لے کر اب تک ناقابل شکست تھی۔ اس سے قبل آخری بار 2022ء کے ورلڈکپ سیمی فائنل میں اسے انگلینڈ نے 10 وکٹوں سے شکست دی تھی۔اس کے علاوہ یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں رنز کے اعتبار سے بھارت کی سب سے بڑی شکست ہے،2010ء کے ورلڈکپ میں اسے آسٹریلیا کے ہاتھوں 49 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں مجموعی طور پر یہ بھارت کی دوسری بڑی شکست ہے، 2019 ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف بھارتی ٹیم کو 80 رنز سے شکست ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جنوبی افریقا نے بھارت کی
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے