اسلام آباد ہائیکورٹ: لاپتہ شہری کیس میں سیکرٹری دفاع و داخلہ طلب، عملدرآمد نہ ہوا تو شوکاز نوٹس کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ: لاپتہ شہری کیس میں سیکرٹری دفاع و داخلہ طلب، عملدرآمد نہ ہوا تو شوکاز نوٹس کی وارننگ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس) اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ شہری کے کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی۔ عدالت نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا اور خبردار کیا کہ حکم پر عمل نہ ہونے کی صورت میں شوکاز نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔
سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ درخواست گزار زینب زعیم نے اپنے لاپتہ خاوند کے کیس میں سابقہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی۔
دورانِ سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالت کے فیصلے پر عمل نہ ہوا تو دونوں سیکرٹریز کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ متعلقہ افسران کے خلاف اب تک کیا کارروائی ہوئی، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی گئی۔
جسٹس کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ سے پوچھا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے اِن کیمرہ بریفنگ دی جائے گی یا نہیں؟ عدالت کا کہنا تھا کہ فیلڈ آفیسر ملٹری انٹیلیجنس یا آئی ایس آئی کا ہو سکتا ہے جو بریفنگ دے سکے۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ متعلقہ نمائندہ آ کر عدالت کو بریفنگ دے سکتا ہے، تاہم فیلڈ آفیسرز کی دستیابی سے متعلق لاعلمی کا اظہار بھی کیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ شخص 2013 میں پہلی بار لاپتہ ہوا تھا اور اب 2026 ہے۔ “ایک آدمی کی اِن کیمرہ بریفنگ کو سمجھنا چاہ رہا ہوں، یہ عدالت قانون کے مطابق چلنا چاہتی ہے۔ اس عدالت اور ڈویژن بنچ دونوں قرار دے چکے ہیں کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے۔”
جسٹس کیانی نے کہا کہ ایک معذور شخص کے بارے میں ریاست بتانے کو تیار نہیں۔ اگر وہ دہشت گرد ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور ٹرائل کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس کی فیملی کو پچاس لاکھ روپے دے چکی ہے، تاہم اگر الزامات ہیں تو باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔
سماعت کے دوران وزارت دفاع کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ مذکورہ شخص کسی ایجنسی کی تحویل میں ہے۔ مزید کہا گیا کہ دی گئی رقم معاوضہ نہیں بلکہ پانچ سال سے زائد لاپتہ رہنے کے بعد وزیر اعظم کی منظوری سے بطور معاونت فراہم کی گئی۔ وزارت دفاع کے نمائندے نے اِن کیمرہ بریفنگ کو کیس کے دائرہ کار سے باہر قرار دیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوا تو کیوں نہ وزیر اعظم کو طلب کیا جائے کہ فیلڈ آفیسرز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر فیصلے سے اختلاف ہے تو وفاقی آئینی عدالت سے اسے معطل کرایا جائے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہاں آپ کی بات نہیں مانی گئی۔
عدالت نے حکومت کو مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر کیس میں معاونت کی جائے۔ کیس کی مزید سماعت 26 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسابق سی ای او خیبر پختونخواہ اکنامک زون کی برطرفی کیخلاف دائر اپیل وفاقی آئینی عدالت میں مسترد سابق سی ای او خیبر پختونخواہ اکنامک زون کی برطرفی کیخلاف دائر اپیل وفاقی آئینی عدالت میں مسترد امریکا میں تاریخ کا ممکنہ بدترین طوفان، دو کروڑ سے زائد لوگوں کے متاثرہونے کا خدشہ، ہزاروں پروازیں منسوخ امریکی سفیر کا اشتعال انگیز بیان، او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب طالبان حکومت نے 9/11 سے پہلے جیسے حالات پیدا کر دیے ہیں: صدر مملکت پشین میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشتگرد ہلاک ٹی 20 ورلڈکپ سپر ایٹ مرحلہ، جنوبی افریقا نے بھارت کو 76 رنز سے شکست دیدیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد شوکاز نوٹس کیس میں ہوا تو
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ