افغانستان میں چینی سرمایہ کاری خطرے میں، رپورٹ میں تشویشناک انکشافات WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز

کابل:(آئی پی ایس) افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال اور غیر ملکی کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔

امریکا کے تھنک ٹینک اسٹمسن سینٹر سے وابستہ محقق سارہ گوڈاک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت چینی کارکنوں کو مقامی شدت پسند گروہوں کے حملوں سے مکمل تحفظ فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان اور تاجکستان کی سرحد کے قریب سونے کی کانوں پر کام کرنے والے چینی مزدوروں کو سیکیورٹی خطرات لاحق رہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2024 سے 2026 کے آغاز تک سرحدی علاقے میں کم از کم سات حملے ہوئے جن میں نو چینی شہری ہلاک اور دس زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں جاری چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری طالبان حکام کے پاس ہے، تاہم اس کے باوجود غیر ملکی کارکن شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پائیدار استحکام کے لیے ضروری ہے کہ حکومت داخلی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنائے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کارکنوں کو محفوظ ماحول فراہم کرے، تاکہ اقتصادی منصوبے متاثر نہ ہوں۔

افغان حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم طالبان حکومت اس سے قبل ملک میں سیکیورٹی کی بہتری کے دعوے کرتی رہی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسلیم بلوچ کی ہلاکت سے لاپتہ افراد کی آڑ میں دہشت گردی بے نقاب سلیم بلوچ کی ہلاکت سے لاپتہ افراد کی آڑ میں دہشت گردی بے نقاب جیل میں آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا کیسے کریں گے؟ سپریم کورٹ کے کیس میں اہم ریمارکس سپریم کورٹ: دوہرے قتل کے مجرم کی سزائے موت ضعیف العمری کی وجہ سے عمر قید میں تبدیل اسلام آباد ہائیکورٹ: لاپتہ شہری کیس میں سیکرٹری دفاع و داخلہ طلب، عملدرآمد نہ ہوا تو شوکاز نوٹس کی وارننگ سابق سی ای او خیبر پختونخواہ اکنامک زون کی برطرفی کیخلاف دائر اپیل وفاقی آئینی عدالت میں مسترد امریکا میں تاریخ کا ممکنہ بدترین طوفان، دو کروڑ سے زائد لوگوں کے متاثرہونے کا خدشہ، ہزاروں پروازیں منسوخ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: افغانستان میں رپورٹ میں

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی