وزیراعظم 23 تا 24 فروری کو قطر کا سرکاری دورہ کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
ترجمان وزارتِ خارجہ پاکستان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف 23 سے 24 فروری 2026 تک قطر کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ دورہ امیرِ ریاست قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام بھی ہوں گے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم محمد شہباز شریف کا سمندر پار پاکستانیوں سے اظہارِ تشکر، اکتوبر میں ترسیلاتِ زر 3.
ترجمان کے مطابق یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے اور تاریخی تعلقات کا عکاس ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کی تجدید کا مظہر ہے۔
دوحا میں قیام کے دوران وزیراعظم کی امیرِ قطر کے ساتھ دوطرفہ ملاقات ہوگی جس میں سیاسی روابط، اقتصادی تعاون، توانائی شراکت داری اور عوامی سطح پر تبادلوں سمیت باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور افرادی قوت کی برآمد جیسے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کریں گے۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہ کراچی، مصروفیات کیا ہوں گی؟
پاکستان اور قطر کے درمیان باہمی اعتماد اور علاقائی و عالمی فورمز پر قریبی تعاون پر مبنی دیرینہ شراکت داری موجود ہے۔ یہ دورہ علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کا بھی موقع فراہم کرے گا اور قیادتیں خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کریں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قطر کا سرکاری دورہ وزیراعظم محمد شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قطر کا سرکاری دورہ وزیراعظم محمد شہباز شریف وزیراعظم محمد شہباز شریف
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔