ایک بیان میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حالیہ کارروائیاں اپنے عوام کو سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی سے بچانے کے بنیادی حق کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ شدت پسند کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے والے، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں اور اگر پاکستان کے اندر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر بچ نہیں پائیں گے۔ پی ٹی وی کے مطابق، صدر زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حالیہ کارروائیاں اپنے عوام کو سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی سے بچانے کے بنیادی حق کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام نے مسلسل رابطوں کے باوجود افغان حکام ان عناصر کے خلاف قابل اعتبار اور قابل تصدیق اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان نے طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنی کارروائیوں کو سرحدی علاقوں کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رکھا۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ تشدد کی منصوبہ بندی کرنے والے، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان کے اندر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر بچ نہیں پائیں گے۔

صدر زرداری نے اپنے آٹھ فروری کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ جب دہشت گرد گروہوں کو قومی سرحدوں سے باہر جگہ، سہولت یا استثنا دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ صدر نے مزید کہا کہ کابل میں قائم حکومت جسے اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا ہے مسلسل دہشت گرد عناصر کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے جو دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے میں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ سے پاکستان کے اس موقف کی توثیق ہوتی ہے کہ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ سمیت متعدد شدت پسند تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے یا کر رہے ہیں۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ ان تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیاں ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ پاکستان کے کہ پاکستان کا کہنا

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار