کیا گورنر سندھ واقعی چھٹی پر چلے گئے؟ حقیقت سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
کیا گورنر سندھ واقعی چھٹی پر چلے گئے؟ حقیقت سامنے آ گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما زاہد ملک نے گورنر سندھ کامران خان ٹسوری کے چھٹی پر جانے کی سوشل میڈیا پر آنے والی اطلاعات کو جعلی قرار دے دیا ۔
اپنے ایک بیا ن میں زاہد ملک نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والی پوسٹ فیک نیوز ہے،
گورنر سندھ کامران خان ٹسوری گورنر سندھ کے طور پر عوام اور صوبے کی مخلصانہ خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں،
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراقتصادی پالیسی سازی میں چیمبرز کی وسیع تر شمولیت کو یقینی بنایا جائے:صدر آئی سی سی آئی اقتصادی پالیسی سازی میں چیمبرز کی وسیع تر شمولیت کو یقینی بنایا جائے:صدر آئی سی سی آئی عمران خان کے نامزد لیڈر آف دی اپوزیشن محمود خان اچکزئی کی تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں سال کی دوسری بڑی مندی، اربوں روپے ڈوب گئے افطار ڈنر 2026: بیرونِ ملک تھائی برادری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی ایک کاوش افغان طالبان کی دہشتگردوں کی پشت پناہی بےنقاب، پاکستانی کارروائی سےمتاثرعلاقوں تک میڈیا رسائی روک دی روس کا 300 ڈرون اور 50 میزائل کے ساتھ یوکرین پر بڑا حملہ، کئی شہروں میں دھماکےCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گورنر سندھ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔