عمران خان کے نامزد لیڈر آف دی اپوزیشن محمود اچکزئی کی تعیناتی عدالت میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
عمران خان کے نامزد لیڈر آف دی اپوزیشن محمود خان اچکزئی کی تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دی گئی۔ پی ٹی آئی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کے وکیل جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے آئینی پٹیشن دائر کی۔ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ محمود خان اچکزئی کی تعیناتی آئین، قانون اور جمہوری تقاضوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کی تعیناتی رول 39 (تین) کی قانونی شرائط پوری نہیں کرتی۔ درخواست میں کہا گیا کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے ارکان قومی اسمبلی کی آزادانہ رائے اور دستخطوں کی غیر جانبدارانہ تصدیق کا قانونی تقاضا پورا نہیں ہوا۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت نااہل شخص کو بالواسطہ یا بلاواسطہ سیاسی عمل میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی کہ سپیکر کو رول 39 (تین) کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا نیا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی جائے۔ عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ حتمی فیصلے تک محمود خان اچکزئی کو لیڈر آف دی اپوزیشن کے طور پر آئینی عمل میں شرکت سے روکا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: لیڈر آف دی اپوزیشن کی تعیناتی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔