چیئرمین سی ڈی اے کا سیکٹر ایچ نائن میں قائم رمضان سہولت بازار کا دورہ،اشیا خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی اور کوالٹی کا جائزہ لیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
چیئرمین سی ڈی اے کا سیکٹر ایچ نائن میں قائم رمضان سہولت بازار کا دورہ،اشیا خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی اور کوالٹی کا جائزہ لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے پیر کے روز سیکٹر ایچ نائن میں قائم رمضان سہولت بازار کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سی ڈی اے کے ممبر ایڈمن طلعت محمود، ڈپٹی کمشنر(ڈی سی)اسلام آباد عرفان نواز میمن، سی او ایم سی آئی ڈاکٹر انعم فاطمہ سمیت متعلقہ افسران بھی انکے ہمراہ تھے۔
چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر محمد علی رندھاوا نے اشیا خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی اور کوالٹی کا جائزہ لیا اور مختلف اشیا خوردونوش کے سٹاک کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد نے ایچ نائن رمضان سہولت بازار میں آنے والے صارفین سے اشیا خوردونوش کی قیمتوں اور کوالٹی کے بارے میں دریافت کیا۔ رمضان سہولت بازار میں آنے والے صارفین کا اشیا خوردونوش کی فراہمی، کوالٹی اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔متعلقہ افسران نے چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کو رمضان سہولت بازاروں میں کئے گئے انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہریوں کی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے شہر بھر میں سات مختلف مقامات پر رمضان سستے بازاروں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ماہ صیام میں اسلام آباد کے رمضان سہولت بازاروں میں اشیا خوردونوش سرکاری نرخوں پر دستیاب ہیں اور اشیا خوردونوش کے سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کیلئے روزانہ کی بنیاد پر مسلسل مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد کو بتایا گیا کہ رمضان المبارک میں شہریوں کو ہرممکن ریلیف فراہم کرنے کیلئے سی ڈی اے و ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر متحرک ہے ۔ اس ماہ صیام میں منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ بریفنگ دیتے ہوئے انہیں بتایا گیا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے وژن کے عین مطابق رمضان سہولت بازاروں میں کیش لیس نظام کو مکمل طور پر نافذ العمل کیا گیا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے ہدایت کی کہ اسسٹنٹ کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اشیا خوردونوش کی فراہمی اور سرکاری قیمتوں پر دستیابی کو یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ افسران سہولت بازاروں اور منڈیوں میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کیساتھ شکایات کا فوری ازالہ کریں۔
چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سستے بازاروں میں سرکاری قیمتوں کی ریٹ لسٹ نمایاں جگہوں پر آویزاں کی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صارفین کی سہولیات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہلپ لائن نمبرز اور واٹس نمبر نمایاں جگہوں پر آویزاں کئے جائیں۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ رمضان سہولت بازاروں میں صفائی ستھرائی، سیکورٹی اور پارکنگ کے مثر نظام کیلئے تمام متعلقہ ادارے موثر کوآرڈینیشن کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری قیمتوں سے زائد وصول کرنے اور ناجائز منافع خوری کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو ماہ صیام میں بہتر سے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجنگلات بطور ماحولیاتی ڈھانچہ: چین کے آسمان سے پاکستان کی زمین تک پاکستانی ہائی کمشنر کی بنگلادیشی وزیرِ خارجہ سے ملاقات، عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی ڈکی بھائی کے فریز بینک اکاونٹس بحال، ویڈیو اپلوڈ کرنے کی اجازت بھی مل گئی سپریم کورٹ کا آئین و قانون کی تشریح کا اختیار ختم ہو گیا، وفاقی آئینی عدالت بزنس کمیونٹی کا صدر ایف پی سی سی آئی مدتِ ملازمت میں مزید توسیع کا مطالبہ کرک میں ایف سی قلعے پر کواڈ کاپٹر حملہ، ایمبولینس پر فائرنگ، تین اہلکار شہید کیا گورنر سندھ واقعی چھٹی پر چلے گئے؟ حقیقت سامنے آ گئیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رمضان سہولت بازار اشیا خوردونوش کی چیئرمین سی ڈی اے فراہمی اور اور کوالٹی ایچ نائن
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔