سعودی عرب(ویب ڈیسک) میں فری عمرہ کی آڑ میں منشیات اسمگلنگ کیس میں بے گناہ سزا کاٹنے والی فیصل آباد کی تین ضعیف خواتین کی رہائی کا تاحال کوئی بندوبست نہ ہو سکا۔ ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود اہلخانہ انصاف اور رہائی کے منتظر ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کی مائیں عمرہ کی ادائیگی کے شوق میں فری پیکیج کے جھانسے میں آئیں اور مبینہ طور پر ان سے منشیات اسمگل کروائی گئی۔ اہلخانہ کے مطابق خواتین بے گناہ ہیں اور دھوکہ دہی کا شکار ہوئیں۔

انور بی بی کے بیٹے کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ کو عمرے کا بے حد شوق تھا، لیکن انہیں فری عمرہ کے نام پر پھنسایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ والدہ سے فون پر بات کرنے کے لیے ہر ہفتے پانچ ہزار روپے کا کارڈ لوڈ کروانا پڑتا ہے، جس کے باعث مالی حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں۔

اہلخانہ کے مطابق والدہ اور دیگر خواتین کو 25، 25 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ بیٹے کا کہنا ہے کہ والدہ کی رہائی کی کوششوں میں گھر اور زمین تک فروخت کر دی، مگر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

متاثرہ خاندانوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سفارتی سطح پر فوری اقدامات کرے اور بے گناہ خواتین کی رہائی یقینی بنائے تاکہ ان کے خاندانوں کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور