وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے اسٹریٹ موومنٹ کو مزید تیز کرنے کے لیے رہائی فورس بنانے کا اعلان تو کیا لیکن رمضان شروع ہوتے ہی پارٹی کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں میں بریک آگیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے دیے گئے دھرنے میں بھرپور شرکت کی تھی، تاہم دھرنے کے خاتمے کے بعد سیاسی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ کم کیوں ہوا؟ علی امین گنڈا پور کا اندرونی کمزوریوں کا اعتراف

رمضان میں سیاسی سرگرمیوں سے چھٹی

پی ٹی آئی کے باخبر رہنماؤں کے مطابق رمضان میں سیاسی سرگرمیاں مشکل ہوتی ہیں، اسی لیے مقدس ماہ میں احتجاج اور جلسے جلوس نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ رمضان کے بعد دوبارہ مہم شروع کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پہلے سے احتجاج کی تیاری کررہی ہے اور طے ہوا تھا کہ رمضان کے بعد ہی مکمل طور پر سڑکوں پر احتجاج اور دھرنوں کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ سردیوں میں اسٹریٹ مہم چلائی جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سردیوں میں احتجاج کی کامیابی کے امکانات کم ہوتے ہیں اور سردی کی وجہ سے دھرنے کی صورت میں کارکنوں کی تعداد کم رہتی ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں بھی سردی کی وجہ سے کارکنان کم نکلتے تھے، اسی بنا پر اس بار سردیوں میں احتجاج کم ہوئے۔

پی ٹی آئی کے ایک اور صوبائی رہنما نے بتایا کہ رمضان میں روزے کی حالت میں احتجاج آسان نہیں ہوتا، اور پارٹی رہنماؤں نے مشورہ دیا تھا کہ رمضان عبادت کے لیے مختص ہے، اسی وجہ سے احتجاج یا دھرنوں کی صورت میں کارکنان کے نکلنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔

رمضان کے بعد بھرپور مہم شروع ہوگی

پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ رمضان میں تیاری ہوگی اور قائدین حکمتِ عملی بنائیں گے، جبکہ رمضان کے بعد اسٹریٹ مہم ایک بار پھر زور و شور سے شروع ہو گی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی فرنٹ پر ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ رمضان المبارک میں مشاورت اور میٹنگز ہوں گی، جن میں رمضان کے بعد کے لیے حکمتِ عملی بنائی جائے گی، جبکہ رمضان کے بعد پورے ملک میں اسٹریٹ موومنٹ شروع کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج اور دھرنوں کا اختیار قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہے، جبکہ پی ٹی آئی اپنی تیاری کررہی ہے۔ رمضان میں اپوزیشن اتحاد نے بھی سیاسی سرگرمیاں محدود کی ہیں۔

رمضان کے بعد عمران خان رہائی فورس کی حلف برداری

پی ٹی آئی کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان رہائی فورس کی تشکیل ہو چکی ہے اور عید تک تمام تیاریاں مکمل ہو جائیں گی، جبکہ عید کے فوراً بعد باقاعدہ حلف برداری کے بعد فورس فعال ہوگی۔

پارٹی رہنماؤں کے مطابق رمضان کے بعد اسٹریٹ موومنٹ میں تیزی آئے گی اور پارٹی پورے ملک میں فعال ہوگی۔

ایک رہنما نے بتایا کہ عمران خان رہائی فورس بنانے کا مقصد ہی پورے ملک میں پارٹی کو فعال بنانا ہے، جو خیبرپختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں میں فی الحال کمزور ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئی فورس کارنر میٹنگز اور اسٹریٹ مہم چلائے گی اور کارکنوں کو ممکنہ احتجاج اور دھرنوں کے لیے تیار کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کی بھی تیاری کررہی ہے، جس میں دھرنے، سڑکوں کی بندش سمیت دیگر آپشنز زیرِ غور ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سرگرم ہیں اور اسٹریٹ مہم کی فرنٹ پر قیادت بھی کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عید تک سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کے امکانات ہیں، اور اگر ملاقات ہوتی ہے تو احتجاج کے حوالے سے مشاورت بھی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی خود عمران خان سے ملاقات کرکے ہدایات لینا چاہتے ہیں، تاہم ابھی تک ملاقات نہیں ہو سکی۔ بعض اشارے ملے ہیں کہ عید تک ملاقات ہو سکتی ہے، جس کا سہیل آفریدی کو بھی انتظار ہے۔

عید کے بعد سہیل آفریدی کی اسٹریٹ موومنٹ میں تیزی آئے گی

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات ہو یا نہ ہو، عید کے بعد سہیل آفریدی کی اسٹریٹ موومنٹ میں تیزی آئے گی اور کارکنوں کو احتجاج کے لیے سرگرم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ رمضان کے احترام میں دھرنا ختم کیا، کال دی گئی تو احتجاج کے لیے تیار ہیں۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے بتایا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے اسلام آباد دھرنے کو اپوزیشن اتحاد نے رمضان کے احترام میں ایک دن پہلے ہی ختم کیا۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی پی ٹی آئی کئی مرتبہ رمضان کے احترام میں احتجاج اور دھرنے ختم کرتی رہی ہے اور اس بار بھی یہی کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے کہیں بھی احتجاج یا دھرنا نہیں ہو رہا اور نہ ہی پارٹی نے کوئی کال دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے رمضان کے مقدس مہینے میں عبادات کے لیے احتجاج کی کال نہیں دی، تاہم اگر کال دی گئی یا ضرورت پڑی تو کارکنان احتجاج کے لیے تیار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بانی پی ٹی آئی پاکستان تحریک انصاف عمران خان عمران خان رہائی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی پاکستان تحریک انصاف عمران خان رہائی وی نیوز عمران خان کی رہائی کے لیے عمران خان رہائی فورس انہوں نے بتایا کہ ان کا کہنا تھا کہ کہ رمضان کے بعد سہیل آفریدی کی اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے اسٹریٹ مہم احتجاج اور کی جانب سے احتجاج کی احتجاج کے پی ٹی آئی کے مطابق جائے گی عید کے گی اور

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت