افغان بھائیوں کا احترام کرتے ہیں مگر امام بارگاہوں اور دیگر مقامات پر حملے ناقابلِ برداشت ہیں، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
تقریب سے خطاب میں کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کی سازشوں کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان اور عوام مل کر ہر قسم کی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ گورنر ہاؤس میں رمضان المبارک کے موقع پر "امیدِ رمضان" کے عنوان سے چوتھے افطار و ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ریحان حنیف، کراچی ایڈیٹرز کلب کے صدر مبشر میر، سیکریٹری جنرل منظر نقوی اور دیگر اراکین، گرین وچ یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر سیماء مغل کے علاوہ این ای ڈی اور حبیب یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ بھی موجود تھے۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پاکستان کی عوام ہماری ریڈ لائن ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں کارروائیاں اْن کیمپوں کے خلاف کی گئیں جہاں سے پاکستان پر دہشت گرد حملے کئے جا رہے تھے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ ہم افغان بھائیوں کا احترام کرتے ہیں مگر امام بارگاہوں اور دیگر مقامات پر حملے ناقابلِ برداشت ہیں۔ انہوں نے بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کی سازشوں کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان اور عوام مل کر ہر قسم کی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ رمضان المبارک کا چوتھا روزہ ایک ساتھ کرنے کی توفیق ملی۔ انہوں نے نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاؤس کے آئی ٹی کورس سے نوجوان پانچ لاکھ روپے ماہانہ کما رہے ہیں، دنیا اے آئی سے اربوں کما رہی ہے اور ہمیں بھی جدید علوم کی طرف بڑھنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہوئے کہا کہ گورنر سندھ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔