پاکستانی چاول کی برآمدات میں کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت آدھی ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں چاول کی برآمدات میں کمی ہوئی اور عالمی مارکیٹ میں قیم بھی آدھی ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی برائے قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں جاوید حنیف نے کہا کہ رائس ایکسپورٹرز کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ سے 15 ارب روپے کس طرح جاری ہوئے۔
جاوید حنیف نے کہا کہ نئے بورڈ کے قائم ہونے سے دو دن پہلے کس نے منظوری دی، رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں چاول کی برآمدات میں کمی ہوئی۔
حکام نے کہا کہ پاکستان کے چاول کی تعداد اور قیمتوں میں آدھی کمی ہو گئی تھی، اس سال دنیا میں چاول کی پیداوار بڑھی، بھارت نے 2023-2024 میں چاول برآمد نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ اس سال بھارت نے برآمدات شروع کر دیں، بھارت کی برآمدات کے باعث عالی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی ہوئی، ہمارے اور انکے ریٹ میں 20 ڈالر کا فرق آ رہا تھا۔
حکام نے بتایا کہ پاکستان کے پاس 2 ارب ڈالر مالیت کے چاول کے ذخائر موجود ہیں، ریئل اسٹیٹ کا پیسہ بھی چاول کی خریداری میں اسٹاکسٹ نے استعمال کیا۔
اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ایران میں پاکستانی باسمتی نان باسمتی بنا کے بیچا جا رہا تھا۔
حکام نے بتایا کہ چاول کی برآمدات کیلئے ایکسپورٹرز کو مالی سپورٹ دی گئی جبکہ چاول سیکٹر کو کبھی ای ڈی ایف سے مالی معاونت فراہم نہیں کی گئی، اس لیے بورڈ نے چاول ایکسپورٹرز کو ریلیف دیا۔
حکام نے بتایا کہ ماضی میں ایسی امداد کئی مرتبہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو فراہم کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حکام نے بتایا کہ میں چاول چاول کی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔