رمضان ایڈیشن کے عنوان سے وسطی لندن میں واقع ایک ہوٹل میں خصوصی بازار کا انعقاد کیا گیا، جہاں رمضان اور عید کے ملبوسات، جیولری، پرفیوم اور دیگر اشیاء ایک ہی چھت تلے دستیاب تھیں۔

اس موقع پر پاکستان ہائی کمشنر کی اہلیہ ڈاکٹر سارہ نعیم کا کہنا تھا کہ 85 سے زائد خواتین ڈیزائنرز کی شرکت سے ہال منی پاکستان کا منظر پیش کر رہا تھا، یہاں خواتین ڈیزائنر بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اس قسم کے بازاروں کا انعقاد ہوتا رہنا چاہیے تاکہ ہم اپنے وطن کا اچھا امیج پیش کرسکیں۔

انھوں نے کہا کہ اس مرتبہ مسلم ممالک کی خواتین سفارت کار بھی یہاں آئیں کیونکہ ہمارا فیشن عرب ممالک میں بھی بہت مقبول ہے، منتظم صالحہ کے علاوہ شہزاد راشد ملک کا کہنا تھا کہ لوگوں کا رسپانس زبردست رہا، بازار میں بڑی تعداد میں برانڈز موجود تھیں اس طرح کمیونٹی کو ایک چھت تلے جمع ہونے اور مل کر خوشیاں منانے کا موقع بھی ملتا ہے۔

خریداری کے لیے آنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ ایسے بازاروں میں انہیں پاکستان جائے بغیر تمام ضروری اشیا باآسانی مل جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا یہاں خواتین کی طرف سے مختلف قسم کے اسٹالز لگانا خوش آئند ہے اس طرح ہمارے ملک کو بھی زرمبادلہ مل رہا ہے اور خواتین کو ترقی کرتا دیکھ کر ہمیں فخر محسوس ہوتا ہے۔

اسٹال لگانے والی خواتین نے بھی اس موقع کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں آن لائن کام کرنے والوں کو صارفین سے براہِ راست ملنے اور اپنے برانڈ کو متعارف کرانے کا بہترین موقع ملتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار