وفاقی آئینی عدالت میں محمود اچکزئی کی قومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر تقرری چیلنج کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی آئینی عدالت میں محمود اچکزئی کی قومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر تقرری چیلنج کردی گئی۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، کیس کے حتمی فیصلے تک نوٹیفیکیشن معطل کیا جائے۔اکبر ایس بابر نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا کہ اسپیکر کو پہلے جانچنا چاہیے تھا، اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی آزادانہ طور پر ہوئی یا نہیں۔
ٹرمپ ایک محدود حملے پر غور کررہے ہیں لیکن اگر ایران جوہری پروگرام سے دستبرداری نہ ہوا تو بڑا حملہ بھی کیا جا سکتا ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔