برمنگھم میں مسجد کے باہر چاقو حملہ، پاکستانی نژاد نوجوان شہید، ملزم فرار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برمنگھم: برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مسجد کے باہر پیش آنے والے افسوسناک چاقو حملے میں پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان جاں بحق جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے، واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور پولیس نے ملزم کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
برطانوی میڈیا اور پولیس حکام کے مطابق جاں بحق نوجوان کی شناخت ذیشان افضل کے نام سے ہوئی ہے جس کی عمر اٹھارہ برس بتائی گئی ہے، نوجوان تراویح کی نماز ادا کرنے مسجد پہنچا تھا اور گاڑی پارکنگ میں موجود تھا کہ اچانک ایک چاقو بردار شخص نے حملہ کر دیا، نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ قریب موجود تین افراد بھی شدید زخمی ہوگئے۔
حکام کے مطابق زخمی ہونے والے نوجوانوں کی عمریں انیس سے بائیس برس کے درمیان ہیں اور انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انتہائی نگہداشت وارڈ میں طبی امداد فراہم کی گئی، زخمیوں کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، وہ بدستور زیر علاج ہیں اور پولیس ان کے بیانات کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھا رہی ہے۔
واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر حملے کو تاحال نسلی یا مذہبی بنیاد پر جرم قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا تھا اور اس کی گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور فرانزک شواہد کی مدد لی جا رہی ہے۔
پولیس نے مقامی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی نے واقعے سے متعلق کوئی مشتبہ سرگرمی دیکھی ہو یا معلومات رکھتا ہو تو فوری طور پر حکام سے رابطہ کرے تاکہ ملزم کو جلد گرفتار کیا جا سکے، علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کریں اور معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
مقامی کمیونٹی رہنماؤں نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت گاہ کے باہر اس نوعیت کا تشدد انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور علاقے میں امن و اطمینان بحال ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم