data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برمنگھم: برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مسجد کے باہر پیش آنے والے افسوسناک چاقو حملے میں پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان جاں بحق جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے، واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور پولیس نے ملزم کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

برطانوی میڈیا اور پولیس حکام کے مطابق جاں بحق نوجوان کی شناخت ذیشان افضل کے نام سے ہوئی ہے جس کی عمر اٹھارہ برس بتائی گئی ہے، نوجوان تراویح کی نماز ادا کرنے مسجد پہنچا تھا اور گاڑی پارکنگ میں موجود تھا کہ اچانک ایک چاقو بردار شخص نے حملہ کر دیا، نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ قریب موجود تین افراد بھی شدید زخمی ہوگئے۔

حکام کے مطابق زخمی ہونے والے نوجوانوں کی عمریں انیس سے بائیس برس کے درمیان ہیں اور انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انتہائی نگہداشت وارڈ میں طبی امداد فراہم کی گئی، زخمیوں کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے،  وہ بدستور زیر علاج ہیں اور پولیس ان کے بیانات کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھا رہی ہے۔

واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر حملے کو تاحال نسلی یا مذہبی بنیاد پر جرم قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا تھا اور اس کی گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور فرانزک شواہد کی مدد لی جا رہی ہے۔

پولیس نے مقامی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی نے واقعے سے متعلق کوئی مشتبہ سرگرمی دیکھی ہو یا معلومات رکھتا ہو تو فوری طور پر حکام سے رابطہ کرے تاکہ ملزم کو جلد گرفتار کیا جا سکے، علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کریں اور معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

مقامی کمیونٹی رہنماؤں نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت گاہ کے باہر اس نوعیت کا تشدد انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور علاقے میں امن و اطمینان بحال ہو۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔

مزید پڑھیں

کیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی

2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا

ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی ایئرلائنز تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک