سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں صوابی اور مردان میں ایف بی آر کے گوداموں سے ضبط شدہ 2,828 کارٹن سگریٹ کی چوری کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود اور سینیٹر عمر فاروق نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: آر ٹی او پشاور کی کارروائی، سب سے بڑی غیر قانونی سگریٹ فیکٹری سیل کردی

کمیٹی نے چیئرمین ایف بی آر کی عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس اہم عوامی نوعیت کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے آئندہ اجلاس میں ان کی حاضری لازمی ہوگی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ضبط شدہ سامان 2024 میں قبضے میں لیا گیا تھا اور انٹرنل انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر تین اہلکاروں، ایک چوکیدار، ایک نائب قاصد اور ایک ڈرائیور، کو برطرف کیا گیا۔ تاہم کمیٹی نے انکوائری رپورٹ میں پائے جانے والے تضادات پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔ کنوینر نے سوال اٹھایا کہ جب پولیس اور ایف آئی اے کی رپورٹس کے مطابق گودام میں لگائی گئی سِیل، چھت اور تالے درست حالت میں پائے گئے تو نچلے درجے کے ملازمین کو کس بنیاد پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور آیا وہ اتنی مہارت سے چوری انجام دے سکتے تھے۔

کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ چوری کی درست تاریخ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا کہ ذمہ داری محض نچلے درجے کے عملے تک محدود دکھائی دیتی ہے جبکہ اعلیٰ افسران جوابدہی سے مبرا نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پی آئی اے کا ملازم کراچی ایئرپورٹ پر سامان چوری کے الزام میں گرفتار

کمیٹی اراکین نے نامکمل ورکنگ پیپرز جمع کرانے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے کمیٹی کو بتایا کہ بارہا درخواستوں کے باوجود سی سی ٹی وی فوٹیج، اسٹاک رجسٹر اور انٹرنل انکوائری رپورٹ فراہم نہیں کی جارہی۔ کمیٹی نے اہم ریکارڈ ایف آئی اے کو فراہم نہ کیے جانے پر شدید تشویش ظاہر کی۔

کمیٹی نے اس فیصلے پر بھی سوال اٹھایا کہ ضبط شدہ سامان کو سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس گودام سے ایسے گودام میں کیوں منتقل کیا گیا جہاں نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ کنوینر نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ منتقلی کا حکم دینے کی مجاز اتھارٹی کی تفصیلات اور انٹرنل انکوائری کمیٹی کی کارروائی سمیت مکمل دستاویزات فراہم کی جائیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور جامع ایس او پیز وضع کرنے کے اقدامات کیے ہیں، تاہم اراکین نے حالیہ چوری کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے 2012 سے اب تک کے ایسے تمام کیسز کی تفصیلات طلب کیں۔ کنوینر نے ہدایت کی کہ وہ اسٹاک ٹیکنگ افسران جنہوں نے سب سے پہلے چوری کا انکشاف کیا، آئندہ اجلاس میں پیش کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں 54 فیصد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت ہونے کا انکشاف

ذیلی کمیٹی نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور ایف بی آر کو مکمل تعاون کی ہدایت کی۔ کرپشن کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کنوینر نے کہا کہ کمیٹی ادارہ جاتی اصلاحات کی حامی ہے لیکن غفلت یا حقائق چھپانے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کے بورڈ ممبران، سیکرٹری لا ڈویژن اور دیگر متعلقہ حکام آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنائیں۔

انہوں نے خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں افسران کے اثاثے مشکوک ہوں، سخت احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیے: ’آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘: ای سگریٹ گلے پڑگئی، بچے بھی لت میں مبتلا

آئندہ اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر کی حاضری کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چیئرمین ایف بی آر سگریٹ چوری سینیٹ قائمہ کمیٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چیئرمین ایف بی آر سگریٹ چوری سینیٹ قائمہ کمیٹی چیئرمین ایف بی آر آئندہ اجلاس میں ایف آئی اے کنوینر نے کمیٹی نے کا اظہار ہدایت کی

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار