data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت کراچی کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ اس کا حل صرف اور صرف بااختیار میگا سٹی حکومت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کراچی کے عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور پولیس تشدد، زہریلی آنسوگیس، گرفتاریاں یا دہشت گردی کے مقدمات جماعت اسلامی کے پرامن احتجاج اور تحریک کو روک نہیں سکتے۔

منعم ظفر خان نے اعلان کیا کہ 27 فروری سے جینے دو کراچی تحریک کے سلسلے میں جلسے شروع کیے جا رہے ہیں، جس میں 27 فروری کو اورنگی ٹاؤن، 28 فروری کو لیاقت آباد اور یکم مارچ کو آر سی ڈی گراؤنڈ ملیر میں جلسے ہوں گے، پاکستان کے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن خصوصی خطاب کریں گے اور رمضان المبارک کے دوران 13 مقامات پر جلسے ہوں گے جبکہ عیدالفطر کے بعد تحریک مزید تیز کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، مگر احتجاج گھربیٹھ کر نہیں بلکہ سڑکوں پر کیا جاتا ہے، پیپلز پارٹی ہر سال شاہراہ فیصل پر سانحہ کارساز کی یاد مناتی ہے، تو ہر سیاسی جماعت کو بھی عوام کے حقوق کے لیے شاہراہ فیصل پر جمع ہونے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

 انہوں نے کراچی میں بنیادی سہولیات کی کمی، ٹینکر مافیا کے ذریعے پانی کی فراہمی، ناقص انفراسٹرکچر، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور گٹر بہنے جیسے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت و انتظامیہ کی عدم توجہی سے شہر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

امیر کراچی  نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کی کہ یہ دونوں جماعتیں کراچی کے وسائل اور اختیارات پر قابض ہیں اور شہر کے بنیادی مسائل پر کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہیں۔

 منعم ظفر خان نے گل پلازہ سانحہ، سولجر بازار میں گیس لیکیج اور عمارت گرنے کے حادثات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ اب تک ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر رہی اور متاثرہ خاندان انصاف کے منتظر ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی کے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے