سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی ارکان کا احتجاج، عمران خان کے علاج کی فراہمی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے باہر تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمات جلد مقرر کیے جائیں اور انہیں اہلخانہ سے ملاقات کی سہولت دی جائے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق احتجاج میں شریک شرکا نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عمران خان کا معائنہ ان کے ذاتی معالجین سے کیا جائے تاکہ ان کی صحت کی درست صورتحال سامنے آئے۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات ممکن نہیں ہوئی اور رجسٹرار کا نمبر بند ہے، اس لیے پارلیمنٹیرینز عدالت کے باہر دھرنا دیے انصاف کے منتظر ہیں، احتجاج کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان کے کیسز کا فوری فیصلہ کیا جائے اور انہیں قانونی انصاف فراہم کیا جائے۔
پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے کہا کہ عمران خان کو آنکھ کے علاج کے لیے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے اور یہ کہ سپریم کورٹ نے فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا تو اس رپورٹ کو داخل دفتر کرانے کا مقصد کیا تھا، عدالتی عمل میں شفافیت اور بانی پارٹی کے حقوق کی حفاظت کے لیے یہ احتجاج ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کیا جائے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔