عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) عافیہ صدیقی کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کردی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے، عدالتی فیصلے میہں جسٹس فیلکس فرینکفرٹر کا اقوال بھی شامل ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ نے تحریری آرڈر جاری کیا ہے، کیس میں 21 جولائی کا آرڈر ایسے بینچ نے جاری کیا جو روسٹر کے تحت قانونی طور پر وجود میں نہیں آیا تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معاملہ خود ساختہ عدالتی کارروائی کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ماسٹر آف دی روسٹر ہیں، بینچز کی تشکیل کا اختیار رکھتے ہیں۔
تحریری فیصلے کے مطابق صرف چیف جسٹس کی منظوری سے قانونی طور پر تشکیل کردہ بینچ کو اختیار کا سماعت ہے، روسٹر یا بینچ کی تشکیل سے متعلق کوئی بھی اعتراض انتظامی طریقہ کار کے تحت حل کیا جاسکتا ہے۔کوئی بینچ آرٹیکل 202 اور متعلقہ ہائیکورٹ رولز کے تحت چیف جسٹس کی منظوری سے وجود میں آتا ہے، کوئی بھی جج یا بینچ ازخود کسی مقدمہ کو خود اپنے سپرد نہیں کرسکتا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی بینچ ازخود کوسی کیس کو شروع، برقرار، منتقل یا اپنے دائرہ اختیار میں نہیں لے سکتا، صرف چیف جسٹس کے پاس بطور ماسٹر آف روسٹر یہ اختیار حاصل ہے، چیف جسٹس کو متضاد فیصلوں سے بچنے کے لیے ایک نوعیت کی درخواستیں یکجا کرنے کا اختیار ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو عدالتی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ایک نوعیت کی درخواستیں یکجا کرنے کا اختیار ہے۔عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس عدالتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کیس کسی بھی مرحلے پر دوسرے بین منتقل کرسکتے ہیں، چیف جسٹس اس بینچ کی رضامندی حاصل کرنے کے پابند نہیں جس کے سامنے یہ مقدمات زیر سماعت ہوں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرن لیگ عمران خان سے معاملات ٹھیک کرے وعدہ کرتا ہوں حکومت گرانے نہیں دینگے، راجا ناصر عباس ن لیگ عمران خان سے معاملات ٹھیک کرے وعدہ کرتا ہوں حکومت گرانے نہیں دینگے، راجا ناصر عباس وزیراعظم محمد شہباز شریف امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر قطر پہنچ گئے پنجاب پولیس متعدد افسروں کے تقرر و تبادلے، نوٹیفکیشن جاری بیرسٹر گوہر کی بات میرے لئے حکم ، آئندہ علیمہ خان کے متعلق اچھا کلمہ کہوں گا نہ برا ، شیر افضل مروت اب صرف جنازے نہیں اٹھائیں گے، ہر حملے کا جواب دیا جائیگا، حکومت کا دہشتگردوں کیخلاف اعلان جنگ حکومت نے اسلام آباد پولیس میں 7ہزار 600نئی بھرتیوں کی منظوری دیدیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اور وفاقی کابینہ توہین عدالت
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز