اسلام ٹائمز: پسِ پردہ ایک نئی تجویز پر بھی دونوں جانب غور ہو رہا ہے، جو فوجی تصادم سے بچنے کا راستہ فراہم کرسکتی ہے: ایران کو محدود پیمانے پر صرف طبی تحقیق اور علاج کے لیے یورینیم افزودگی کی اجازت دی جائے۔ یہ واضح نہیں کہ دونوں میں سے کوئی فریق اس تجویز سے اتفاق کرے گا یا نہیں۔ ترتیب و تدوین: ایل اے انجم

تمام تر دباؤ اور دھمکیاں بے سود ہونے پر امریکی صدر کے حیرت زدہ ہونے کی خبر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کرنے والے سٹیو ویٹکوف نے دی، جنہوں ںے گزشتہ روز امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ حیران ہیں کہ تمام تر دباؤ اور خطے میں ہماری بحری قوت کے حجم کے باوجود تہران نے ہمت کیوں نہیں ہاری اور آکر صاف صاف یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ بس ہم اب جوہری ہتھیار نہیں چاہتے؟ ایران اور امریکا کے درمیان متوقع جنگ اور مذاکرات کے درمیان ایران خصوصاً رہبر معظم کی بے مثال استقامت کا یہ کھلا اعتراف ہے۔ اب امریکی میڈیا کی رپورٹ میں کئی ایسے اعشاریئے سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق امریکہ نے ایران کے یورینیم افزدودگی کے حق کو تسلیم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ امریکی فوجی کمانڈروں نے بھی جنگ کے غیر یقینی نتائج پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی تازہ ترین رپورٹ میں ٹرمپ کی اپنے مشیروں اور عسکری کمانڈروں کے ساتھ ہونے والی حالیہ میٹنگ کا احوال افشاء کیا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے چار نمائندوں کی مشترکہ رپورٹ میں حالیہ کشیدگی کے منظرنامے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ اگر سفارت کاری یا امریکہ کا کوئی ابتدائی محدود حملہ ایران کو اس بات پر آمادہ نہ کرسکا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہو جائے، تو وہ آئندہ مہینوں میں ایک بڑے حملے پر غور کریں گے، جس کا مقصد ایران کی قیادت کو اقتدار سے ہٹانا ہوگا۔ رپورٹ میں مشیروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگرچہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم ٹرمپ ایک ابتدائی حملہ کرنے کی طرف مائل ہیں، جس کا مقصد ایرانی قیادت کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ انہیں جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ترک کرنے پر آمادہ ہونا چاہیئے۔

تاہم اسی میٹنگ میں امریکی فوجی کمانڈروں نے ایران کے ساتھ جنگ کیلئے تیاری کا واضح جواب نہیں دیا، بلکہ خدشہ ظاہر کیا کہ ایران کے ساتھ طویل جنگ کی صورت میں مسلسل جنگی تیاری بحری جہازوں، پیٹریاٹ دفاعی نظام اور فضائی نگرانی کے وسائل پر "منفی اثر" ڈال سکتی ہے۔ بدھ کو وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ٹرمپ نے ایران پر حملوں کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریڈکلف اور چیف آف اسٹاف سوزی وائلز شریک تھے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی اس بات پر شکوک پائے جاتے ہیں کہ کیا صرف فضائی حملوں سے یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پسِ پردہ ایک نئی تجویز پر بھی دونوں جانب غور ہو رہا ہے، جو فوجی تصادم سے بچنے کا راستہ فراہم کرسکتی ہے: ایران کو محدود پیمانے پر صرف طبی تحقیق اور علاج کے لیے یورینیم افزودگی کی اجازت دی جائے۔ یہ واضح نہیں کہ دونوں میں سے کوئی فریق اس تجویز سے اتفاق کرے گا یا نہیں۔

یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب دو امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے اور درجنوں لڑاکا طیارے، بمبار اور ایندھن بھرنے والے طیارے ایران کے قریب تعینات کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران ٹرمپ نے جنرل کین اور ریٹکلف سے ایران کے حوالے سے وسیع حکمتِ عملی پر رائے مانگی۔ جنرل کین نے فوجی آپریشن کے امکانات پر بات کی، جبکہ ریٹکلف نے زمینی صورتحال اور ممکنہ نتائج پر توجہ دی۔ گذشتہ ماہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے آپریشن پر جنرل کین نے کامیابی کے امکانات زیادہ قرار دیئے تھے، لیکن ایران کے معاملے میں وہ ایسی یقین دہانی نہیں کرا سکے، کیونکہ ایران کہیں زیادہ مشکل ہدف ہے۔ نائب صدر وینس، جو بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں میں احتیاط کے حامی رہے ہیں، انہوں نے حملے کی مخالفت تو نہیں کی، مگر اجلاس میں انہوں نے ممکنہ خطرات اور پیچیدگیوں پر تفصیلی سوالات اٹھائے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ اس سے قبل خصوصی دستوں کے ذریعے ایرانی جوہری یا میزائل تنصیبات پر چھاپوں کے آپشن پر بھی غور کرچکا تھا، خاص طور پر وہ تنصیبات جو زمین کے گہرے حصوں میں قائم ہیں اور روایتی ہتھیاروں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ تاہم ایسے آپریشن کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے فی الحال یہ منصوبہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ادھر امریکی فوج کے مختلف شعبوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل جنگ یا مسلسل جنگی تیاری بحری جہازوں، پیٹریاٹ دفاعی نظام اور فضائی نگرانی کے وسائل پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک تجویز آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کی جانب سے سامنے آئی، جس کے تحت ایران کو محدود مقدار میں طبی مقاصد کے لیے جوہری ایندھن تیار کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ایران کا موقف ہے کہ سپریم لیڈر کے واضح فتویٰ کے مطابق جوہری بم کی تیاری حرام ہے، ایران صرف توانائی اور طبی مقاصد کیلئے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے کوشاں ہے۔

دوسری جانب ایک ایرانی دفاعی عہدیدار نے ہفتے کے روز روسی نشریاتی ادارےRT کو بتایا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر امریکی دباؤ یا بلیک میلنگ کے آگے نہیں جھکے گا۔ عہدیدار نے خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی امریکی یا اسرائیلی حملے کا جواب "وسیع اور لامحدود" ہوگا۔ ذریعے کے مطابق "امریکا ایران کی صلاحیت اور جواب دینے کے عزم سے بخوبی آگاہ ہے" اور ڈونلڈ ٹرمپ وقت خرید رہے ہیں، تاکہ فوجی اور سیاسی دباؤ بڑھا کر ایران کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کیا جا سکے۔" ایرانی دفاعی عہدیدار نے کہا، "ایران طویل اور بے نتیجہ مذاکراتی عمل میں نہیں الجھے گا۔ ایسے مذاکرات جن میں پابندیاں ہٹنے کا امکان کمزور ہو، ایران کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔" دریں اثناء عمان کے وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہوگا۔ عمان، جو فریقین کے درمیان ثالثی کرتا رہا ہے، اس کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ مذاکرات ایک مثبت پیش رفت کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اضافی کوشش کے طور پر طے پائے ہیں۔

مغربی میڈیا کی ان رپورٹوں سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔ تاہم چونکہ امریکی اسٹیبلشمٹ پر صیہونیوں کا غلبہ ہے اور صیہونی لابی ہر صورت جنگ چاہتی ہے۔ اس صورتحال پر ایک امریکی سابق فوجی اہلکار کا تاریخی تبصرہ امریکی انتظامیہ کے خدوخال کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔ اہلکار کے مطابق "ہمارے ملک کی صورتحال اس وقت بہتر طور پر سمجھ میں آتی ہے، جب ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں اقتدار میں آنے والا ہر شخص یا تو یہودی ہے، پیڈو فائل ہے، یہودی پیڈو فائل ہے، یا پھر یہودیوں، پیڈو فائلوں، یا یہودی پیڈو فائلوں کے ذریعے زبردستی اور خفیہ بلیک میل کیا گیا ہے" اب اس امر میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے کہ نیتن یاہو موساد کے ذریعے ٹرمپ کو بلیک میل کر رہا ہے اور ٹرمپ نہ چاہتے ہوئے بھی جنگ کی طرف جانے پر مجبور ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ کے درمیان رپورٹ میں کہ ایران ایران کو کی رپورٹ کے لیے ہیں کہ گیا ہے رہا ہے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا