Express News:
2026-07-24@00:42:17 GMT

سرحد پار دہشت گردی پر فیصلہ کن جواب

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

پاکستان کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ فضائی حملوں میں افغانستان کے تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی اور داعش خراساں کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا جس میں 80سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔ دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے پشین میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے خود کش حملہ آور سمیت فتنہ الخوارج کے5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

 حالیہ کارروائی خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، پاک افغان تعلقات کی نزاکت اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جاری جدوجہد کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دولت اسلامیہ صوبہ خراسان گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

ان تنظیموں نے نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا بلکہ مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر حملوں کے ذریعے خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی۔ حالیہ مہینوں میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں متعدد سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے تانے بانے سرحد پار موجود نیٹ ورکس سے ملتے ہیں اور ان کے سہولت کار افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔

افغانستان میں قائم عبوری حکومت، جسے وہ اسلامی امارت افغانستان کے نام سے موسوم کرتے ہیں، پر پاکستان کی جانب سے بارہا زور دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی ریاست اپنی سرزمین پر موجود عناصر کو ہمسایہ ملک کے خلاف کارروائیوں سے روکنے میں ناکام رہتی ہے تو متاثرہ ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

یہ مؤقف بین الاقوامی قانون میں موجود حقِ دفاع کے اصول سے جڑا ہوا ہے، تاہم اس کی عملی تعبیر ہمیشہ پیچیدہ اور حساس ہوتی ہے۔پاک افغان تعلقات کی تاریخ اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہی ہے۔ سوویت دور سے لے کر نائن الیون کے بعد کی عالمی جنگ تک، افغانستان مسلسل عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنا رہا۔ اس طویل عدم استحکام کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔

لاکھوں افغان مہاجرین کی آمد، سرحدی علاقوں میں اسلحے اور منشیات کا پھیلاؤ اور شدت پسند گروہوں کی مضبوطی نے پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کو متاثر کیا۔ پاکستان نے مختلف ادوار میں افغانستان میں مفاہمتی عمل کی حمایت کی، مذاکرات کی سہولت کاری کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، مگر زمینی حقائق آج بھی پیچیدہ ہیں۔

 دوحہ معاہدے کے بعد جب امریکی افواج کا انخلا ہوا اور طالبان نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک کو امید تھی کہ افغانستان میں استحکام آئے گا اور سرحد پار دہشت گردی میں کمی ہوگی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ خدشات بڑھنے لگے کہ کچھ شدت پسند گروہ نئی صورت حال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بارہا یہ کہا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عناصر افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں، اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے، کیونکہ غیر ریاستی مسلح گروہوں کی موجودگی کسی بھی ریاست کی رٹ کو کمزور کرتی ہے۔

حالیہ فضائی کارروائی کو اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اور اہداف کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کیا گیا تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر افغانستان کی عبوری حکومت اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتی ہے تو دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عسکری اقدامات کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری رہیں تاکہ غلط فہمیوں اور تصادم کے امکانات کم کیے جا سکیں۔

 دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے۔ ہزاروں سیکیورٹی اہلکار اور شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، اور سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوا۔ ضرب عضب اور رد الفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے ریاست نے دہشت گردی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، مگر مکمل خاتمہ ابھی باقی ہے۔ دہشت گردی ایک ایسی لعنت ہے جو بدلتی ہوئی حکمت عملی کے ساتھ دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے، اس لیے مسلسل چوکسی ناگزیر ہے۔

اسی تسلسل میں سیکیورٹی فورسز نے پشین میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے خودکش حملہ آور سمیت فتنہ الخوارج کے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ یہ کارروائیاں اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بلا امتیاز جاری رہے گی۔ دہشت گردی کا مسئلہ صرف بندوق سے حل نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے نظریاتی، سماجی اور معاشی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اگر نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع میسر نہ ہوں تو شدت پسند بیانیہ انھیں آسانی سے متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے ریاست کو ایک جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی جس میں تعلیمی اصلاحات، نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت اقدامات اور سوشل میڈیا پر شدت پسند پروپیگنڈے کی روک تھام شامل ہو۔

نیشنل ایکشن پلان کو بھی محض کاغذی دستاویز کے بجائے عملی فریم ورک بنانا ہوگا۔ کالعدم تنظیموں کے نام بدل کر کام کرنے کی روایت کا خاتمہ، دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ذرائع مسدود کرنا اور عدالتی نظام کو مؤثر بنانا بنیادی تقاضے ہیں، اگر گرفتار دہشت گرد ثبوتوں کی کمی یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث چھوٹ جاتے ہیں تو دہشت گردی کے خلاف دی جانے والی قربانیاں رائیگاں جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کو متحرک سفارت کاری کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر یہ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ افغانستان کو عالمی تنہائی سے نکالنے کے لیے ایسی شرائط طے کی جائیں جن میں دہشت گردی کے خلاف واضح اور قابل تصدیق اقدامات شامل ہوں، اگر افغانستان معاشی بدحالی اور سفارتی تنہائی کا شکار رہے گا تو وہاں غیر ریاستی عناصر کے لیے جگہ پیدا ہوتی رہے گی۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ سرحد پار کشیدگی کا اثر دونوں ممالک کے عوام پر پڑتا ہے۔ سرحدی تجارت متاثر ہوتی ہے، قانونی آمد و رفت میں رکاوٹیں آتی ہیں اور بداعتمادی بڑھتی ہے۔ اس لیے ایک متوازن حکمت عملی ضروری ہے جس میں سختی اور لچک دونوں شامل ہوں۔جہاں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہو،وہاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری پر بھی توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔

ریاست کا بنیادی فریضہ اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے، ایسے شواہد موجود ہیں کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی منصوبہ بندی سرحد پار سے ہو رہی ہے لہٰذا اس کا سدباب ناگزیر ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ پائیدار امن کے لیے دہشت گردوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سیاسی بصیرت، معاشی استحکام اور علاقائی تعاون کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔

پاکستان کو داخلی طور پر سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ دشمن عناصر کو دراڑیں تلاش کرنے کا موقع نہ ملے۔پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ریاست ایک مربوط، شفاف اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرے۔ عسکری کارروائیاں اپنی جگہ ضروری ہیں، مگر ان کے ساتھ ساتھ فکری محاذ پر بھی کام کرنا ہوگا۔ انتہا پسندانہ سوچ کا مقابلہ دلیل، تعلیم اور سماجی انصاف کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ شدت پسند بیانیے کے خاتمے کے لیے ایک منصفانہ، شفاف اور مضبوط معاشرہ تشکیل دینا ہوگا۔

موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ جذباتیت کے بجائے سنجیدگی سے کام لیا جائے۔ پاکستان کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ اس کی سرزمین پر دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر سرحد پار سے خطرہ ہو تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ دروازہ بھی کھلا رکھنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام بنایا جائے جس میں دونوں ممالک کی سلامتی یقینی ہو۔آخرکار، یہ جنگ صرف سرحدوں کی نہیں بلکہ بیانیے کی بھی ہے، اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان دینا چاہتے ہیں تو ہمیں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ عسکری کامیابیاں اہم ہیں، مگر اصل کامیابی تب ہوگی جب دہشت گردی کا ناسور ہمیشہ کے لیے ختم ہو اور خطہ امن، تعاون اور ترقی کی راہ پرگامزن ہو۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی قومی مفاد۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے خلاف افغانستان میں افغانستان کے کہ افغانستان کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک پاکستان کی پاکستان کے انٹیلی جنس حکمت عملی ضروری ہے سرحد پار پر بھی اس لیے کے لیے

پڑھیں:

فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں  کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں،  ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار