دہشتگردی صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں: طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
طارق فضل چوہدری - فوٹو: فائل
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں، دہشت گردی کا دائرہ کار پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔
سینیٹ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے جس کے ہمارے پاس مصدقہ ثبوت ہیں، یہ ثبوت افغانستان کے سامنے بھی رکھے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم سے متعدد مرتبہ درخواست کی کہ افغانستان سے دراندازی روکی جائے، لیکن انہوں نے کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیے کابل میں پاکستانی سفیر کی طلبی، افغان حکومت کا احتجاج۔ حملوں کا مناسب وقت پرنپا تلا جواب دیا جائے گا، افغان وزارت دفاع پاکستان کی افغانستان میں انٹیلیجنس بیس ایئراسٹرائیکس، خوارج کے 7 مراکز تباہ، 80 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاعوفاقی وزیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پاک افغان بارڈر سے دہشت گرد تشکیلیں پاکستان میں آتی ہیں، یہ تشکیلیں اور دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں، افغانستان میں دہشت گردوں کی تربیت گاہیں ہیں، ہم اس کی نشاندہی اور افغان رجیم کو آگاہ کر چکے ہیں۔
طارق فضل طوہدری کا کہنا تھا کہ افغان رجیم نے ٹی ٹی پی کے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کیخلاف کچھ نہیں کیا۔
وفاقی وزیر کے خطاب کے بعد سینیٹ کا اجلاس کل دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان میں وفاقی وزیر کہ افغان
پڑھیں:
ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
سٹی 42: ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی لاہور پہنچ گئے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب کا استقبال کیا۔
گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان ودیگرایئرپورٹ پر موجود تھے۔ایرانی وزیر داخلہ نے مزاراقبال اور دربار بی بی پاکدامن پر حاضری دی ۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر پنجاب سلیم حیدر خان بھی ہمراہ تھے۔
ایرانی وزیر داخلہ نے مزار اقبال پر پھول رکھے ،امن و استحکام کیلئے دعا کی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی