وہ بالی ووڈ اداکارہ جس کا شوبز کیریئر ایک ’نازیبا ویڈیو‘ نے تباہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
ممبئی (ویب ڈیسک) بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ریا سین، جنہوں نے اپنی خوبصورتی اور اداکاری سے مداحوں کے دل جیتے، ایک ویڈیو سکینڈل کے بعد فلم انڈسٹری سے دور ہو گئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریا سین نے کم عمری میں اپنی اداکاری کا آغاز کیا اور بالی ووڈ کے ساتھ بنگالی، تیلگو اور تامل فلموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ تاہم، 2005 میں ایک مبینہ ایم ایم ایس سکینڈل نے ان کے کیریئر کو شدید دھچکا پہنچایا۔
یہ ویڈیو، جس میں ان کا نام اداکار اشمیت پٹیل کے ساتھ جوڑا گیا، انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی۔
ریا کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کے بارے میں یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ وہ مشہور ہونے کے لیے اس ویڈیو کے پیچھے خود تھیں۔
اس سکینڈل کے باوجود، ریا سین نے اپنی ذہنی صحت کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور اپنی دلکش تصاویر سے دوبارہ مداحوں کی توجہ حاصل کی۔
آج ریا، جو 40 سال کی ہو چکی ہیں، اپنی خوبصورتی اور جوان نظر آنے کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔
ریا کا نام بالی ووڈ کے کئی مشہور شخصیات کے ساتھ جوڑا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، ان کے تعلقات اداکار اکشے کھنہ، متنازع مصنف سلمان رشدی، اور سابق کرکٹر سری سانتھ کے ساتھ رہے۔ تاہم، اشمیت پٹیل کے ساتھ تعلق اور اس سے جڑے ایم ایم ایس اسکینڈل نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔
مزیدپڑھیں:خراب فارم، انوشکا اور ویرات ’بابا‘ کا آشیرواد لینے پہنچ گئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔