وارسا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جنوری2025ء)پولینڈ میںٹاس کرکے لڑکی کو قتل کرنے اور لاش کی بے حرمتی کرنے والا شخص کوگرفتارکرلیاگیا۔غیرملکی میڈیاکی رپورٹ کے مطابق پولینڈ میں ایک 20سالہ شخص میٹیوز ہیپا کے خلاف وکٹوریا کوزیلسکا نامی 18سالہ لڑکی کے قتل کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے حیران کن طور پر، اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے سکہ پلٹنے (ٹاس)کے بعد اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق وکٹوریا کوزیلسکا پولینڈ کے شہر کیٹوویس میں ایک پارٹی سے گھر جا رہی تھی، جب اس کی ملاقات میٹیوز ہیپا ایک بس میں ہوئی جو ایک گاڑی کی مرمت کرنے کے بعد اپنی دکان بند کی تھی۔ اس نے لڑکی کو اپنے اپارٹمنٹ میں مدعو کیا، جہاں وہ سو گئی۔رپورٹ کے مطابق ملزم نے نیند کے دوران لڑکی پرتشدد حملہ کیا اور رسی سے اس کا گلا گھونٹ کر اسے موت کی نیند سلا دیا، پھر اس کی لاش کو پلاسٹک میں لپیٹ دیا۔

(جاری ہے)

یہ سب کرنے کے بعد ملزم نے حیران کن طور پر پولیس سے رابطہ کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 20سالہ قاتل نے پریشان کن بیان دیتے ہوئے کہاکہ اس نے لڑکی کو قتل کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیے ٹاس (سکہ گھمایا)جو کہ Heads آیا جس کے بعد میں نے اسے قتل کردیا۔ملزم نے پولیس کو بیان میں کہ اگر کوائن میں Tails آتا تو لڑکی ابھی زندہ ہوتی۔پولینڈ کی پولیس نے وکٹوریا کوزیلسکا کی لاش ملنے کے چند گھنٹے بعد ملزم کو گرفتار کیا۔

جب اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے پولیس کو چونکا دینے والا بیان دیا کہ مجھے قتل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو میں نے کر دیا۔ اس نے بتایا کہ وکٹوریا کو نیند سے جگانے کی میں نے کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا جس کے بعد میں نے ٹاس کیا اور اس کا قتل کر دیا،میں نہیں جانتا کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔ملزم نے خوفناک بیان دیتے ہوئے بتایاکہ قتل کے بعد میں نے وکٹوریا کو برہنہ کر کے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اس کی لاش کو ایک پلاسٹک کے تھیلے میں ڈال دیا۔

رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ اگست 2023میں وکٹوریا کوزیلسکا کو قتل کرنے سے پہلے ملزم کسی اور کو جان سے مارنے کیلئے سوچ رہا تھا اور اس کام کیلئے شہر میں گھوم رہا تھا۔مقامی خبروں کے مطابق جرم کے بعد ملزم نے خودکشی کا سوچا لیکن اس کے بجائے پولیس کو بلانے کا فیصلہ کیا۔ وہ تب سے جیل میں قید اور جسے عمر قید کی سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کو قتل کرنے کے مطابق کے بعد

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا