یہ 1945ء کی بات ہے، امریکا کی ایک لیبارٹری میں زیرتجربہ مویشیوں کوپھپھوندی کی ایک قسم، مائسلیم (Mycelium) خشک حالت میں کھلائی گئی۔ چند ہفتے بعد مویشیوں پر تحقیق کرتے ماہرین کو علم ہوا کہ ان کا وزن ایسے مویشیوں سے زیادہ بڑھ گیا جو مائسلیم نہیں کھا رہے تھے۔ انھیں کافی تعجب ہوا ۔

اب وہ یہ جاننے کی خاطر تحقیق کرنے لگے کہ یہ پھپھوندی کھانے والے مویشیوں کا وزن کیونکر بڑھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس بڑھوتری میں ایک جرثومے یا بیکٹریا ، کلورٹیٹریسلین (chlortetracycline) نے بنیادی کردار ادا کیا جو مائسلیم میںملتا ہے۔ اس طرح بنی نوع انسان نے پہلی بار جانا کہ جراثیم کی بعض اقسام جانوروں کا وزن تیزی سے بڑھا دیتی ہیں۔ آج یہ تمام اقسام سائنس دریافت کر چکی۔

اب پوری دنیا میں گائے، بھینس، خنزیر، اونٹ، مرغی، بطخ وغیرہ کا وزن بڑھانے کے لیے ان جراثیم سے مدد لی جا رہی ہے جو اینٹی بائیوٹکس ادویہ کی شکل میں مارکیٹ سے ملتے ہیں۔ رفتہ رفتہ امریکی سائنس دانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ مرغیوںاور مویشیوں کو بعض اینٹی بائیوٹک ادویہ دی جائیں تو ان کی افزائش زیادہ تیزی سے ہوتی ہے یعنی وہ زیادہ جلد پل بڑھ جاتی ہیں۔ بعد ازاں مرغیوں اور مویشیوں کو جراثیم کی پیداکردہ بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی اینٹی بائیوٹک ادویہ دی جانے لگیں۔ آج بھی دنیا بھر میں دونوں مقاصد کے لیے چکن و مویشی کی پیداوار میں اینٹی بائیوٹک ادویہ وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ عمل فوائد اور نقصان، دونوں رکھتا ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

شروع میں تو سائنس داں سمجھ ہی نہیں پائے کہ اینٹی بائیوٹک ادویہ نے مرغیوں اور جانوروں میں بڑھوتری کی رفتار میں اضافہ کیسے کیا؟ اکیسویں صدی میں طبی سائنس نے خاطر خواہ ترقی کر لی تو بتدریج اس مکینزم کا علم ہوا جس کی بدولت یہ ادویہ چرند وپرند میں افزائش کا عمل تیز کر تی ہیں۔ معلوم ہوا کہ جانور کی خوراک میں موجود خردحیاتیات (microorganisms) یعنی خردبینی جانور اس غذا کی بیشتر غذائیت (nutrients) چٹ کر جاتے ہیں۔ یوں غذائیت کم ملنے سے جانور کی نشوونما بھی سست رفتار رہتی ہے۔

یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ خرد حیاتیات آنتوں میں پہنچ کر غذائیت کو جسم میں جذب نہیں ہونے دیتے۔ نیز ایسے تیزاب پیدا کرتے ہیں جو جانور کی صحت متاثر کرتے ہیں۔ مگر جب چارے یا خوراک میں اینٹی بائیوٹک ادویہ شامل کی جائیں تو وہ بیشتر خرد حیاتیات مار ڈالتی ہیں۔ جو زندہ بچ جائیں، وہ ادویہ کی وجہ سے اپنا کام صحیح طرح نہیں کر پاتے۔

ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ جن مرغیوں اور مویشیوں کی پرورش غیر صحت مند ماحول میں ہو، ان میں کئی چھوت یا انفیکشن جنم لیتے ہیں۔ یہ چھوت ان کا جسمانی مدافعتی نظام کمزور کر ڈالتے ہیں۔ مثلاً اکثر چھوت بدن میں سائٹوکائن (Cytokine) نامی پروٹین پیدا کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے جسم میں چند ایسے کیٹابولک (catabolic) یعنی کیمائی عمل جنم لیتے ہیں جو عضلات کا کچھ حصہ ضائع کر دیتے ہیں۔ مگر اینٹی بائیوٹک ادویہ کے استعمال سے سائٹوکائن پروٹین پیدا نہیں ہوتے، یوں عضلات کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے۔

انفیکشن سے روک تھام

عام طور پہ غذا کے لیے پالے گئے چکن یا مویشی چھوٹی جگہ پر بڑی تعداد میں رکھے جاتے ہیں۔ اس جگہ صحت و صفائی کی سہولتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے، ایسی جہگوں میں جراثیم بہت جلد چھوت پیدا کر تے ہیں جن کی لپیٹ میں آ کر کئی چرند پرند چند دنوں میں چل بستے تھے۔ مگر اینٹی بائیوٹک ادویہ کے استعمال نے ان میں اموات کی شرح بہت کم کر دی۔ یوں ان ادویہ کا ایک اور نمایاں فائدہ سامنے آیا۔

اس دوران چرند پرند پالنے کے جدید طریقے بھی سامنے آئے۔ مثال کے طور پہ علم جینیات میں تحقیق سے ایسی اقسام پیدا کر لی گئیں جن کی افزائش تیز ہوتی ہے اور ان کا مدافعتی نظام آسانی سے چھوت کا نشانہ نہیں بنتا۔ پھر جانوروں کو کنٹرولڈ ماحول میں پالا جانے لگا جہاں انھیں مطلوبہ حرارت ، روشنی اور نمی ہر وقت میسّر رہتی ہے۔ مذید براں ایسی معدنیات اور وٹامن بھی دریافت ہوگئے جو مرغیوں اور مویشیوں کی نشوونما تیز کر تے ہیں۔

لائیوسٹاک کا انقلاب

غرض اینٹی بائیوٹک ادویہ کے ساتھ ساتھ درج بالا تبدیلیوں نے دنیا بھر میں چکن اور مویشیوں کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیا۔ اب ماضی کی نسبت کافی کم وقت میں مرغیاں ، گائے بھینسیں، بکرے ، اونٹ اور خوک وغیرہ انسانوں کو ملنے لگے۔ یہی نہیں ان کا وزن بھی زیادہ ہو گیا۔ چرند پرند کی فراہمی بڑھنے سے ان کے گوشت کی قیمت بھی کم ہو گئی اور اب عام آدمی بھی پہلے کی نسبت ہفتے میں زیادہ دن گوشت کھا کر پروٹین حاصل کرنے لگا۔

سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا کہ جس چارے میں اینٹی بائیوٹک ادویہ ملائی جائیں، وہ کم کھا کر بھی چکن ومویشی کا پیٹ بھر جاتا ہے۔ مویشی پالنے کے اخراجات میں چارے کا خرچ کافی زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے چکن و مویشی کم غذا کھانے لگے تو پالنے والوں کو مالی فائدہ پہنچا اور ان کا خرچ گھٹ گیا۔ پھر جانور کی کم مدت میں تیاری اور وزن میں اضافے نے بھی مالی طور پہ انھیں فائدہ پہنچایا۔

اینٹی بائیوٹک ادویہ استعمال کرتی مرغیوں کا گوشت بھی عمدہ پایا گیا کیونکہ اس میں چکنائی کی مقدار کم تھی۔ جبکہ جن چرند پرند کی خوراک میں اینٹی بائیوٹک ادویہ شامل نہیں کی گئیں، ان کے گوشت میں چکنائی کی مقدار زیادہ پائی جاتی۔ ان ادویہ نے انڈے دینے والی مرغیوں میں انڈے دینے کی صلاحیت بھی تیز کر دی۔ مذید براں ادویہ نے چرند پرند کی صحت بھی بہتر بنا دی کیونکہ وہ چھوت میں کم مبتلا ہونے لگے۔

غرض 1950ء کے بعد اینٹی بائیوٹک ادویہ کے فوائد رفتہ رفتہ سامنے آئے تو وہ لائیوسٹاک کی پرورش میں لازمی عنصر بن گئیں۔ ان سے مرغیاں اور مویشی پالنے والوں کو کافی مالی فائدہ پہنچا، اس لیے ان کا استعمال بڑھتا چلا گیا۔ آج بھی ہر سال کئی لاکھ کلو اینٹی بائیوٹک ادویہ لائیوسٹاک کے شعبے میں استمال ہوتی ہیں۔ تجارتی طور پہ چکن و مویشی پالنے والوں کو کہنا ہے کہ ان کے شعبے میں یہ ادویہ کاروبار کا ناگزیر حصہ بن چکیں کیونکہ انہی کی وجہ سے چکن و مویشی موثر انداز میں پلنے بڑھنے لگے اور ان کا کاروبار منافع بخش ہو گیا۔ مگر پچھلے چند عشروں سے یہ ادویہ متنازع بھی بن گئی ہیں۔

پہلا تنازع

سوشل میڈیا پر براجمان طبی ماہرین کا دعوی ہے کہ مرغیوں اور مویشیوں کے گوشت میں اینٹی بائیوٹک ادویہ کے اثرات موجود ہوتے ہیں۔ چناں چہ یہ گوشت کھا کر انسانوں میں نئے عوارض جنم لے چکے۔ مثلاً ان کے چہرے اور جسم سوج جاتے ہیں۔ جسم میں سوزش بڑھ جاتی ہے۔ تولیدی طاقت متاثر ہوتی ہے۔ اگر انسان ایسا گوشت بکثرت کھائے تو کینسر جیسے موذی مرض کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ اینٹی بائیوٹک لینے والے جانوروں کا گوشت یا دودھ پی کی انسان بلڈ پریشر اور ذیابیطس قسم اول کا نشانہ بھی بن جاتا ہے۔

لائیو سٹاک میں کام کرتے طبی ماہرین کا مگر کہنا ہے کہ جانوروں کو کنٹرولڈ طریقے سے اینٹی بائیوٹک ادویہ دی جاتی ہیں۔ ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ اس لیے جانور کے گوشت یا دودھ میں ان کے اثرات نہیں آ پاتے۔ اس لیے یہ نظریہ غلط ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویہ لینے والے جانوروں کا گوشت یا دودھ انسانوں میں بیماریاں پیدا کرتا ہے۔

جدید طبی سائنس بھی اب تک تحقیق یا تجربات سے ایسی ٹھوس وجہ دریافت نہیں کر سکی جو ثابت کر دے کہ اینٹی بائیوٹک ادویہ لینے والے جانوروں کا گوشت کھا یا دودھ پی کر کوئی انسان کسی بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ تحقیق سے یہی پتا چلا کہ مختلف عوامل نے مل جل کر کسی ایک مرض کو پیدا کیا۔ گویا اب تک ایسی ٹھوس سائنسی شہادت نہیں مل سکی جو اینٹی بائیوٹک لیتے لائیوسٹاک کو مضر صحت قرار دے۔

دوسرا تنازع

یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویہ لینے سے جانور دنیا میں ایسے جراثیم پھیلا رہے ہیں جو مروجہ اینٹی بائیوٹک ادویہ کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔ یعنی یہ ادویہ ان پر اثر نہیں کرتیں اور ان کو ختم نہیں کر پاتیں۔ جراثیم کا اپنے اندر اینٹی بائیوٹک ادویہ کے خلاف مقابلے کی صلاحیت پیدا کر لینے کا عمل اصطلاح میں’’اینٹی بائیوٹک مزاحمت‘‘ (antibiotic resistance)کہلاتا ہے۔

یہ یاد رہے کہ ہر جاندار خود کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ چونکہ جراثیم بھی جاندار ہیں لہذا وہ بھی بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ اپنے جینیاتی مواد میں ایسی تبدیلیاں لے آئیں جن کی مدد سے وہ اپنے خلاف استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹک ادویہ کو بے اثر بنا سکیں۔ ماضی میں اینٹی بائیوٹک ادویہ صرف انسانوں کو دی جاتی تھیں اور ان کا استعمال محدود تھا۔ مذید براں ڈاکٹر بھی صرف انفیکشن ظاہر ہونے پر یہ دوائیں تجویز کرتے ۔ مگر جب لائیوسٹاک میں اینٹی بائیوٹک وسیع پیمانے پر اپنا لی گئیں تو ان کا استعمال بڑھتا چلا گیا۔ اس کے علاوہ عام لوگ بھی معمولی بیماریاں دور کرنے کے لیے انھیں استعمال کرنے لگے۔

اینٹی بائیوٹک ادویہ بڑے پیمانے پر اپنانے کا نقصان یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ جراثیم کی ایسی نئی اقسام پیدا ہو گئیں جن کا جینیاتی مواد اپنے اندر ان کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے۔ یوں پہلے تو اینٹی بائیوٹک ادویہ کے ذریعے انھیں ختم کرنے میں مشکل پیش آئی اور پھر کئی قسم کے جراثیم آخرکار بے علاج ہو گئے۔ یعنی اب وہ کسی پرانی اینٹی بائیوٹک دوا سے نہیں مر پاتے۔

یہ نئے جراثیم خاص طور پہ بچوں ، بوڑھوں اور مریضوں کے لیے بہت خطرناک ہیں کیونکہ ان کا جسمانی مدافعتی نظام کمزور ہو تا ہے۔ اس لیے خدانخواستہ انھیں کوئی ایسا انفیکشن چمٹ جائے جو اینٹی بائیوٹک مزاحمت رکھنے والا جرثومہ پیدا کرے، رو ان کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اینٹی بائیوٹک مزاحمت رکھنے والے یہ جراثیم ہر سال کروڑوں انسانوں کو بیمار کرنے لگے ہیں اور ان میں سے سیکڑوں مرض پیچیدہ ہونے اور کمزوری کے باعث چل بستے ہیں۔

پابندیوں کی زد میں

اینٹی بائیوٹک مزاحمت پھیلنے کی وجہ سے ہی امریکا نے 2017 ء میں یہ پابندی لگا دی کہ چکن اور مویشیوں کا وزن بڑھانے کے لیے اینٹی بائیوٹک ادویہ استعمال نہیں کی جائیں گی۔ بعد ازاں چین، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں بھی یہی پابندی لگا دی گئی۔ تاہم امریکا میں امراض سے بچاؤ کے لیے لائیوسٹاک میں یہ ادویہ استعمال ہو سکتی ہیں۔ یورپی یونین مگر اس عمل پر بھی پابندی لگا چکی۔ یورپ کے کسی فارم میں کوئی چکن یا مویشی چھوت کا شکار ہو جائے تو اسے بقیہ جانوروں سے الگ کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان ، بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں مگر رنگ برنگ اینٹی بائیوٹک ادویہ لائیوسٹاک میں کھلے عام استعمال ہو رہی ہیں تاکہ ان کا وزن بڑھ سکے، نشوونما تیزی سے ہو اور جانور بیماریوں سے بچ سکیں۔ مگر ان ادویہ کا کثیر استعمال انسانی آبادی میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت بڑھا رہا ہے جو کافی تشویش ناک امر ہے۔ لہٰذا پاکستان سمیت سبھی ملکوں میں ان ادویہ کا استعمال محدود کرنا ہو گا ورنہ صحت ِ انسانی گھمبیر خطرات میں گھر سکتی ہے۔

وجہ صاف ظاہر ہے۔ اگر لائیو سٹاک اور زراعت میں اینٹی بائیوٹک ادویہ کا استعمال وسیع پیمانے پر جاری رہا تو ان سے مزاحمت رکھنے والے نت نئے جراثیم بھی بڑی تعداد میں پیدا ہو جائیں گے۔ وہ پھر ہر سال کروڑوں انسانوں کو موت کے منہ میں پہنچا سکتے ہیں کیونکہ ان کا خاتمہ کرنے والی اینٹی بائیوٹک ادویہ موجود نہیں ہوں گی۔

ایک حل

لہٰذا درمیانی راہ نکالنے بہت ضروری ہو گئی ہے۔ مثلاً یہ کہ جانوروں اور زراعت کے لیے اینٹی بائیوٹک ادویہ مخصوص کر دی جائیں۔ یعنی ان کو انسانوں پر استعمال نہ کیا جائے۔ جبکہ جو ادویہ انسان استعمال کرتے ہیں، ان کو جانوروں پر استعمال نہ کیا جائے۔ اس طریقے سے اینٹی بائیوٹک مزاحمت محدود کی جا سکتی ہے۔جبکہ لائیوسٹاک اور زراعت کو جو فوائد ادویہ سے مل رہے ہیں، وہ ملتے رہیں گے۔

یاد رہے، ایک نئی اینٹی بائیوٹک دوا ایجاد کرنا بڑا طویل اور کافی اخراجات والا عمل ہے۔ چونکہ دور حاضر میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت ایک نئی اینٹی بائیوٹک دوا کو بہت جلد بے اثر بنا دیتی ہے، اسی لیے ادویہ ساز کمپنیاں انھیں نہیں بنا رہیں کیونکہ اسے بنا کر ان کو منافع نہیں ہوتا بلکہ عموماً وہ نقصان اٹھاتی ہیں۔ یہ ایک اور مسئلہ ہے جس سے بنی نوع انسان دوچار ہو چکی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مرغیوں اور مویشیوں انسانوں کو کا استعمال جانوروں کا پیمانے پر کی وجہ سے اور ان کا ان ادویہ ادویہ کا جانور کی کرتے ہیں کہ ان کا تیزی سے نہیں کر پیدا کر کے گوشت کا گوشت اس لیے طور پہ کے لیے کا وزن ہوا کہ

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • بڑھتا ٹیکسٹائل فضلہ: یو اے ای میں استعمال شدہ کپڑوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی