یہ 1945ء کی بات ہے، امریکا کی ایک لیبارٹری میں زیرتجربہ مویشیوں کوپھپھوندی کی ایک قسم، مائسلیم (Mycelium) خشک حالت میں کھلائی گئی۔ چند ہفتے بعد مویشیوں پر تحقیق کرتے ماہرین کو علم ہوا کہ ان کا وزن ایسے مویشیوں سے زیادہ بڑھ گیا جو مائسلیم نہیں کھا رہے تھے۔ انھیں کافی تعجب ہوا ۔

اب وہ یہ جاننے کی خاطر تحقیق کرنے لگے کہ یہ پھپھوندی کھانے والے مویشیوں کا وزن کیونکر بڑھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس بڑھوتری میں ایک جرثومے یا بیکٹریا ، کلورٹیٹریسلین (chlortetracycline) نے بنیادی کردار ادا کیا جو مائسلیم میںملتا ہے۔ اس طرح بنی نوع انسان نے پہلی بار جانا کہ جراثیم کی بعض اقسام جانوروں کا وزن تیزی سے بڑھا دیتی ہیں۔ آج یہ تمام اقسام سائنس دریافت کر چکی۔

اب پوری دنیا میں گائے، بھینس، خنزیر، اونٹ، مرغی، بطخ وغیرہ کا وزن بڑھانے کے لیے ان جراثیم سے مدد لی جا رہی ہے جو اینٹی بائیوٹکس ادویہ کی شکل میں مارکیٹ سے ملتے ہیں۔ رفتہ رفتہ امریکی سائنس دانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ مرغیوںاور مویشیوں کو بعض اینٹی بائیوٹک ادویہ دی جائیں تو ان کی افزائش زیادہ تیزی سے ہوتی ہے یعنی وہ زیادہ جلد پل بڑھ جاتی ہیں۔ بعد ازاں مرغیوں اور مویشیوں کو جراثیم کی پیداکردہ بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی اینٹی بائیوٹک ادویہ دی جانے لگیں۔ آج بھی دنیا بھر میں دونوں مقاصد کے لیے چکن و مویشی کی پیداوار میں اینٹی بائیوٹک ادویہ وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ عمل فوائد اور نقصان، دونوں رکھتا ہے۔

سائنس کیا کہتی ہے؟

شروع میں تو سائنس داں سمجھ ہی نہیں پائے کہ اینٹی بائیوٹک ادویہ نے مرغیوں اور جانوروں میں بڑھوتری کی رفتار میں اضافہ کیسے کیا؟ اکیسویں صدی میں طبی سائنس نے خاطر خواہ ترقی کر لی تو بتدریج اس مکینزم کا علم ہوا جس کی بدولت یہ ادویہ چرند وپرند میں افزائش کا عمل تیز کر تی ہیں۔ معلوم ہوا کہ جانور کی خوراک میں موجود خردحیاتیات (microorganisms) یعنی خردبینی جانور اس غذا کی بیشتر غذائیت (nutrients) چٹ کر جاتے ہیں۔ یوں غذائیت کم ملنے سے جانور کی نشوونما بھی سست رفتار رہتی ہے۔

یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ خرد حیاتیات آنتوں میں پہنچ کر غذائیت کو جسم میں جذب نہیں ہونے دیتے۔ نیز ایسے تیزاب پیدا کرتے ہیں جو جانور کی صحت متاثر کرتے ہیں۔ مگر جب چارے یا خوراک میں اینٹی بائیوٹک ادویہ شامل کی جائیں تو وہ بیشتر خرد حیاتیات مار ڈالتی ہیں۔ جو زندہ بچ جائیں، وہ ادویہ کی وجہ سے اپنا کام صحیح طرح نہیں کر پاتے۔

ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ جن مرغیوں اور مویشیوں کی پرورش غیر صحت مند ماحول میں ہو، ان میں کئی چھوت یا انفیکشن جنم لیتے ہیں۔ یہ چھوت ان کا جسمانی مدافعتی نظام کمزور کر ڈالتے ہیں۔ مثلاً اکثر چھوت بدن میں سائٹوکائن (Cytokine) نامی پروٹین پیدا کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے جسم میں چند ایسے کیٹابولک (catabolic) یعنی کیمائی عمل جنم لیتے ہیں جو عضلات کا کچھ حصہ ضائع کر دیتے ہیں۔ مگر اینٹی بائیوٹک ادویہ کے استعمال سے سائٹوکائن پروٹین پیدا نہیں ہوتے، یوں عضلات کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے۔

انفیکشن سے روک تھام

عام طور پہ غذا کے لیے پالے گئے چکن یا مویشی چھوٹی جگہ پر بڑی تعداد میں رکھے جاتے ہیں۔ اس جگہ صحت و صفائی کی سہولتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے، ایسی جہگوں میں جراثیم بہت جلد چھوت پیدا کر تے ہیں جن کی لپیٹ میں آ کر کئی چرند پرند چند دنوں میں چل بستے تھے۔ مگر اینٹی بائیوٹک ادویہ کے استعمال نے ان میں اموات کی شرح بہت کم کر دی۔ یوں ان ادویہ کا ایک اور نمایاں فائدہ سامنے آیا۔

اس دوران چرند پرند پالنے کے جدید طریقے بھی سامنے آئے۔ مثال کے طور پہ علم جینیات میں تحقیق سے ایسی اقسام پیدا کر لی گئیں جن کی افزائش تیز ہوتی ہے اور ان کا مدافعتی نظام آسانی سے چھوت کا نشانہ نہیں بنتا۔ پھر جانوروں کو کنٹرولڈ ماحول میں پالا جانے لگا جہاں انھیں مطلوبہ حرارت ، روشنی اور نمی ہر وقت میسّر رہتی ہے۔ مذید براں ایسی معدنیات اور وٹامن بھی دریافت ہوگئے جو مرغیوں اور مویشیوں کی نشوونما تیز کر تے ہیں۔

لائیوسٹاک کا انقلاب

غرض اینٹی بائیوٹک ادویہ کے ساتھ ساتھ درج بالا تبدیلیوں نے دنیا بھر میں چکن اور مویشیوں کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیا۔ اب ماضی کی نسبت کافی کم وقت میں مرغیاں ، گائے بھینسیں، بکرے ، اونٹ اور خوک وغیرہ انسانوں کو ملنے لگے۔ یہی نہیں ان کا وزن بھی زیادہ ہو گیا۔ چرند پرند کی فراہمی بڑھنے سے ان کے گوشت کی قیمت بھی کم ہو گئی اور اب عام آدمی بھی پہلے کی نسبت ہفتے میں زیادہ دن گوشت کھا کر پروٹین حاصل کرنے لگا۔

سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا کہ جس چارے میں اینٹی بائیوٹک ادویہ ملائی جائیں، وہ کم کھا کر بھی چکن ومویشی کا پیٹ بھر جاتا ہے۔ مویشی پالنے کے اخراجات میں چارے کا خرچ کافی زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے چکن و مویشی کم غذا کھانے لگے تو پالنے والوں کو مالی فائدہ پہنچا اور ان کا خرچ گھٹ گیا۔ پھر جانور کی کم مدت میں تیاری اور وزن میں اضافے نے بھی مالی طور پہ انھیں فائدہ پہنچایا۔

اینٹی بائیوٹک ادویہ استعمال کرتی مرغیوں کا گوشت بھی عمدہ پایا گیا کیونکہ اس میں چکنائی کی مقدار کم تھی۔ جبکہ جن چرند پرند کی خوراک میں اینٹی بائیوٹک ادویہ شامل نہیں کی گئیں، ان کے گوشت میں چکنائی کی مقدار زیادہ پائی جاتی۔ ان ادویہ نے انڈے دینے والی مرغیوں میں انڈے دینے کی صلاحیت بھی تیز کر دی۔ مذید براں ادویہ نے چرند پرند کی صحت بھی بہتر بنا دی کیونکہ وہ چھوت میں کم مبتلا ہونے لگے۔

غرض 1950ء کے بعد اینٹی بائیوٹک ادویہ کے فوائد رفتہ رفتہ سامنے آئے تو وہ لائیوسٹاک کی پرورش میں لازمی عنصر بن گئیں۔ ان سے مرغیاں اور مویشی پالنے والوں کو کافی مالی فائدہ پہنچا، اس لیے ان کا استعمال بڑھتا چلا گیا۔ آج بھی ہر سال کئی لاکھ کلو اینٹی بائیوٹک ادویہ لائیوسٹاک کے شعبے میں استمال ہوتی ہیں۔ تجارتی طور پہ چکن و مویشی پالنے والوں کو کہنا ہے کہ ان کے شعبے میں یہ ادویہ کاروبار کا ناگزیر حصہ بن چکیں کیونکہ انہی کی وجہ سے چکن و مویشی موثر انداز میں پلنے بڑھنے لگے اور ان کا کاروبار منافع بخش ہو گیا۔ مگر پچھلے چند عشروں سے یہ ادویہ متنازع بھی بن گئی ہیں۔

پہلا تنازع

سوشل میڈیا پر براجمان طبی ماہرین کا دعوی ہے کہ مرغیوں اور مویشیوں کے گوشت میں اینٹی بائیوٹک ادویہ کے اثرات موجود ہوتے ہیں۔ چناں چہ یہ گوشت کھا کر انسانوں میں نئے عوارض جنم لے چکے۔ مثلاً ان کے چہرے اور جسم سوج جاتے ہیں۔ جسم میں سوزش بڑھ جاتی ہے۔ تولیدی طاقت متاثر ہوتی ہے۔ اگر انسان ایسا گوشت بکثرت کھائے تو کینسر جیسے موذی مرض کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ اینٹی بائیوٹک لینے والے جانوروں کا گوشت یا دودھ پی کی انسان بلڈ پریشر اور ذیابیطس قسم اول کا نشانہ بھی بن جاتا ہے۔

لائیو سٹاک میں کام کرتے طبی ماہرین کا مگر کہنا ہے کہ جانوروں کو کنٹرولڈ طریقے سے اینٹی بائیوٹک ادویہ دی جاتی ہیں۔ ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ اس لیے جانور کے گوشت یا دودھ میں ان کے اثرات نہیں آ پاتے۔ اس لیے یہ نظریہ غلط ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویہ لینے والے جانوروں کا گوشت یا دودھ انسانوں میں بیماریاں پیدا کرتا ہے۔

جدید طبی سائنس بھی اب تک تحقیق یا تجربات سے ایسی ٹھوس وجہ دریافت نہیں کر سکی جو ثابت کر دے کہ اینٹی بائیوٹک ادویہ لینے والے جانوروں کا گوشت کھا یا دودھ پی کر کوئی انسان کسی بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ تحقیق سے یہی پتا چلا کہ مختلف عوامل نے مل جل کر کسی ایک مرض کو پیدا کیا۔ گویا اب تک ایسی ٹھوس سائنسی شہادت نہیں مل سکی جو اینٹی بائیوٹک لیتے لائیوسٹاک کو مضر صحت قرار دے۔

دوسرا تنازع

یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویہ لینے سے جانور دنیا میں ایسے جراثیم پھیلا رہے ہیں جو مروجہ اینٹی بائیوٹک ادویہ کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔ یعنی یہ ادویہ ان پر اثر نہیں کرتیں اور ان کو ختم نہیں کر پاتیں۔ جراثیم کا اپنے اندر اینٹی بائیوٹک ادویہ کے خلاف مقابلے کی صلاحیت پیدا کر لینے کا عمل اصطلاح میں’’اینٹی بائیوٹک مزاحمت‘‘ (antibiotic resistance)کہلاتا ہے۔

یہ یاد رہے کہ ہر جاندار خود کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ چونکہ جراثیم بھی جاندار ہیں لہذا وہ بھی بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ اپنے جینیاتی مواد میں ایسی تبدیلیاں لے آئیں جن کی مدد سے وہ اپنے خلاف استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹک ادویہ کو بے اثر بنا سکیں۔ ماضی میں اینٹی بائیوٹک ادویہ صرف انسانوں کو دی جاتی تھیں اور ان کا استعمال محدود تھا۔ مذید براں ڈاکٹر بھی صرف انفیکشن ظاہر ہونے پر یہ دوائیں تجویز کرتے ۔ مگر جب لائیوسٹاک میں اینٹی بائیوٹک وسیع پیمانے پر اپنا لی گئیں تو ان کا استعمال بڑھتا چلا گیا۔ اس کے علاوہ عام لوگ بھی معمولی بیماریاں دور کرنے کے لیے انھیں استعمال کرنے لگے۔

اینٹی بائیوٹک ادویہ بڑے پیمانے پر اپنانے کا نقصان یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ جراثیم کی ایسی نئی اقسام پیدا ہو گئیں جن کا جینیاتی مواد اپنے اندر ان کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے۔ یوں پہلے تو اینٹی بائیوٹک ادویہ کے ذریعے انھیں ختم کرنے میں مشکل پیش آئی اور پھر کئی قسم کے جراثیم آخرکار بے علاج ہو گئے۔ یعنی اب وہ کسی پرانی اینٹی بائیوٹک دوا سے نہیں مر پاتے۔

یہ نئے جراثیم خاص طور پہ بچوں ، بوڑھوں اور مریضوں کے لیے بہت خطرناک ہیں کیونکہ ان کا جسمانی مدافعتی نظام کمزور ہو تا ہے۔ اس لیے خدانخواستہ انھیں کوئی ایسا انفیکشن چمٹ جائے جو اینٹی بائیوٹک مزاحمت رکھنے والا جرثومہ پیدا کرے، رو ان کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اینٹی بائیوٹک مزاحمت رکھنے والے یہ جراثیم ہر سال کروڑوں انسانوں کو بیمار کرنے لگے ہیں اور ان میں سے سیکڑوں مرض پیچیدہ ہونے اور کمزوری کے باعث چل بستے ہیں۔

پابندیوں کی زد میں

اینٹی بائیوٹک مزاحمت پھیلنے کی وجہ سے ہی امریکا نے 2017 ء میں یہ پابندی لگا دی کہ چکن اور مویشیوں کا وزن بڑھانے کے لیے اینٹی بائیوٹک ادویہ استعمال نہیں کی جائیں گی۔ بعد ازاں چین، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں بھی یہی پابندی لگا دی گئی۔ تاہم امریکا میں امراض سے بچاؤ کے لیے لائیوسٹاک میں یہ ادویہ استعمال ہو سکتی ہیں۔ یورپی یونین مگر اس عمل پر بھی پابندی لگا چکی۔ یورپ کے کسی فارم میں کوئی چکن یا مویشی چھوت کا شکار ہو جائے تو اسے بقیہ جانوروں سے الگ کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان ، بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں مگر رنگ برنگ اینٹی بائیوٹک ادویہ لائیوسٹاک میں کھلے عام استعمال ہو رہی ہیں تاکہ ان کا وزن بڑھ سکے، نشوونما تیزی سے ہو اور جانور بیماریوں سے بچ سکیں۔ مگر ان ادویہ کا کثیر استعمال انسانی آبادی میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت بڑھا رہا ہے جو کافی تشویش ناک امر ہے۔ لہٰذا پاکستان سمیت سبھی ملکوں میں ان ادویہ کا استعمال محدود کرنا ہو گا ورنہ صحت ِ انسانی گھمبیر خطرات میں گھر سکتی ہے۔

وجہ صاف ظاہر ہے۔ اگر لائیو سٹاک اور زراعت میں اینٹی بائیوٹک ادویہ کا استعمال وسیع پیمانے پر جاری رہا تو ان سے مزاحمت رکھنے والے نت نئے جراثیم بھی بڑی تعداد میں پیدا ہو جائیں گے۔ وہ پھر ہر سال کروڑوں انسانوں کو موت کے منہ میں پہنچا سکتے ہیں کیونکہ ان کا خاتمہ کرنے والی اینٹی بائیوٹک ادویہ موجود نہیں ہوں گی۔

ایک حل

لہٰذا درمیانی راہ نکالنے بہت ضروری ہو گئی ہے۔ مثلاً یہ کہ جانوروں اور زراعت کے لیے اینٹی بائیوٹک ادویہ مخصوص کر دی جائیں۔ یعنی ان کو انسانوں پر استعمال نہ کیا جائے۔ جبکہ جو ادویہ انسان استعمال کرتے ہیں، ان کو جانوروں پر استعمال نہ کیا جائے۔ اس طریقے سے اینٹی بائیوٹک مزاحمت محدود کی جا سکتی ہے۔جبکہ لائیوسٹاک اور زراعت کو جو فوائد ادویہ سے مل رہے ہیں، وہ ملتے رہیں گے۔

یاد رہے، ایک نئی اینٹی بائیوٹک دوا ایجاد کرنا بڑا طویل اور کافی اخراجات والا عمل ہے۔ چونکہ دور حاضر میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت ایک نئی اینٹی بائیوٹک دوا کو بہت جلد بے اثر بنا دیتی ہے، اسی لیے ادویہ ساز کمپنیاں انھیں نہیں بنا رہیں کیونکہ اسے بنا کر ان کو منافع نہیں ہوتا بلکہ عموماً وہ نقصان اٹھاتی ہیں۔ یہ ایک اور مسئلہ ہے جس سے بنی نوع انسان دوچار ہو چکی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مرغیوں اور مویشیوں انسانوں کو کا استعمال جانوروں کا پیمانے پر کی وجہ سے اور ان کا ان ادویہ ادویہ کا جانور کی کرتے ہیں کہ ان کا تیزی سے نہیں کر پیدا کر کے گوشت کا گوشت اس لیے طور پہ کے لیے کا وزن ہوا کہ

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ