علی امین کی عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کیس ہدایت کیساتھ نمٹا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود علی امین گنڈاپور کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کیس نمٹا دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل غفور انجم اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے بیان پر عدالت نے درخواست ہدایت کے ساتھ نمٹا دی۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت میں بیان دیا کہ معمول کے مطابق ملاقاتیں کروائی جا رہی ہیں، فیملی کے بعد علی امین گنڈاپور کی ہی ملاقاتیں کروائی گئیں اور تین ملاقاتیں ہوئیں۔
اڈیالہ جیل حکام نے مزید بتایا کہ فوکل پرسن کے ذریعے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں کروائی جاتی ہیں، فوکل پرسن جس کا نام دے ملاقات کروائی جاتی ہے۔
عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ فوکل پرسن کے ذریعے علی امین گنڈاپور کا نام بھی بھجوایا جائے اور اگر بانی پی ٹی آئی ملاقات کرنا چاہیں تو ملاقات بھی کروائی جائے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے 24 جنوری کو ملاقات نہ کروانے پر عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے علی امین گنڈاپور کی درخواست ہدایت کے ساتھ نمٹا دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور اڈیالہ جیل
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔