لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 فروری ۔2025 )سابق وزیرخارجہ اور تحریک انصاف کے مرکزی راہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی اپنی حکومت سے لاتعلق ہوکر ہمارے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں مفتاح اسماعیل، محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان بھی ہمارے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں بہت جلد گرینڈ الائنس بننے جارہا ہے.

(جاری ہے)

نجی ٹی وی کے مطابق شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے کیسز میں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ 9 مئی کیسز میں بے قصور ہیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی میں کبھی عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے وفد نے چیف جسٹس سے بریفنگ نہیں لی آئی ایم ایف کی بریفنگ سے ملک میں قانون کی عمل داری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے.

انہوں نے کہا کہ 26 ویں ترمیم کی درخواستوں کاانتظار کر لیا جاتا تو اچھا ہوتا اسلام آباد ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ کو بھی متاثر کیا گیا واضح رہے کہ قبل ازیں ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاقی حکومت کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنے کے لیے ایک اور کوشش کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو حکومت مخالف تحریک کا حصہ بنالیا.

مری سے مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی راہنماﺅں کی ملاقات تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو لکھے گئے خط کے بعد ہوئی تھی پی ٹی آئی نے جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان اور پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کو بھی حکومت مخالف اتحاد کا حصہ بننے پر قائل کرنے کی کوشش کی.

پی ٹی آئی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ گرینڈ الائنس کی قیادت شاہد خاقان عباسی کریں گے یہ فیصلہ بنی گالہ میں سابق اسپیکر اسد قیصر کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے جمع ہونے کے بعد کیا گیا تھا اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا، ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس، شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور دیگر نے شرکت کی تھی.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مولانا فضل الرحمان شاہد خاقان عباسی شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی کے بعد نے کہا

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا