وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے کہا کہ ہم نے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی سازش کوناکام بنادیا ہے۔ سیاحت کے فروغ کے لیے بھر پور اقدامات کیے ہیں۔ بیرون ملک سے سیاحوں کی بڑی تعداد نے گلگت بلتستان کا رخ کیا۔ لینڈ ریفارمز کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ ٹیکس وصولی کا ہدف قریباً 80 فیصد حاصل کرلیا۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بدامنی پھیلانے کی بڑی بھارتی سازش بے نقاب

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری اتحادی حکومت کی ڈیڑھ سال کی کارکردگی نمایاں ہے۔ گلگت بلتستان میں امن و امان کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ بیرون ملک سے سیاحوں کی بڑی تعداد نے یہاں کا رخ کیا ہے۔ لینڈ ریفارمز کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔

گلبر خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سستی گندم فراہمی کے لیے سبسڈی دی جارہی ہے۔ قیمتی پتھروں اور دیگر معدنیات کی کان کنی کے لیے مقامی افراد اور کمپنیوں کو ترجیح دیں گے۔ ہماری حکومت نے علاقے کی عوام کی فلاح وبہبود کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حاجی گلبر خان گلگت بلتستان وزیراعلیٰ گلگت بلتستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حاجی گلبر خان گلگت بلتستان وزیراعلی گلگت بلتستان گلگت بلتستان کے لیے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے