پی ٹی آئی رہنماؤں نے الیکشن نتائج، عدالتی فیصلوں اور ملکی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 8 فروری کو عوام نے پی ٹی آئی کو واضح مینڈیٹ دیا مگر دھاندلی سے نتائج تبدیل کیے گئے، قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی جیتی ہوئی 180 نشستوں پرقبضہ کیا گیا، عمر ایوب نے کہا ہے کہ عدلیہ کو اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر کہنا چاہیے کہ بس اب بہت ہوگیا، عمران خان تک رسائی روک دی گئی ہے، پہلے بھی انہیں تنہائی میں رکھا گیا تھا، بشریٰ بی بی، شاہ محمود کو جیل سہولتیں نہیں مل رہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ 8 فروری کے بعد ملک میں عدم استحکام نے جنم لیا، اس کی وجہ سے معاشی استحکام ہے۔
خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، سینیٹر شبلی فراز اور سلمان اکرم راجہ نے پریس کانفرنس کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان، بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی اور دیگر ساتھی مختلف جیلوں میں پابند سلاسل ہیں، جیل میں سہولیات ان کا حق ہے، جیل مینوئل کے مطابق انہیں سہولیات نہیں مل رہیں، ہمارے تمام رہنما سیاسی قیدی ہیں۔
عمر ایوب نے کہا بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور دیگر رہنماؤں تک رسائی بند کردی گئی ہے، پہلے بھی عمران خان کو تنہائی میں رکھا گیا تھا، سیاسی رہنماؤں کو فوجی عدالتوں میں قید رکھنا غیر آئینی ہے، تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے۔
عمر ایوب نے کہا کہ پاکستان میں آئین وقانون کی بالادستی نہیں ہے، جوڈیشری کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیئے، عدلیہ کو کہنا چاہیئے کہ بس بہت ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں آرہی، پاکستان میں کاروبار، زراعت کا شعبہ بند پڑا ہے، آپ کی گاڑی کا انجن بند پڑا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں معیشت چل رہی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، وہاں قومی پرچم لہرانا ممکن نہیں رہا، جو یہ کہتا ہے کہ مہنگائی کم ہوئی وہ میرے ساتھ بازاروں کا دورہ کرلے، حکومت کس کو بے وقوف بنارہی ہے، کون سی معیشت چل رہی ہے؟ عوام کی قوت خرید کم ہوچکی ہے، کچن کا خرچہ مشکل ہورہا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم پر حکومت نے من مانی کی، پی ٹی آئی کی درخواست سنی نہیں گئی، جعلی مینڈیٹ سے بنی حکومت نے 26 ویں ترمیم پاس کرائی، پی ٹی آئی کا اصولی مؤقف ہے 26ویں ترمیم کیس کی سماعت جلد سے جلد ہو، تمام جج صاحبان بیٹھیں اور 26ویں ترمیم کا فیصلہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مینڈیٹ کا تحفظ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری تھی، الیکشن کمیشن اور عدلیہ نے مینڈیٹ کے تحفظ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، ہمارا آج بھی یہی مؤقف ہے مینڈیٹ واپس لینے کا حق رکھتے ہیں، جمہوریت کے لیے عوام کا مینڈیٹ اور ووٹ بنیادی چیز ہے، ہم آج بھی مطالبہ کرتے ہیں ہمارامینڈیٹ واپس کیا جائے۔
بیرسٹرگوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی، ہم آگے بڑھنا چاہ رہے تھے، مذاکرات کی پیشکش کے باوجود حکومت نے مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی، ابھی بھی وقت ہے دانش مندانہ فیصلے کریں،وہ فیصلے کریں جس میں سب کی فلاح ہو۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم کی حیثیت سے آرمی چیف کو خط لکھا، بانی پی ٹی آئی کے خط میں عوام کے جذبات کی عکاسی ہے، بانی پی ٹی آئی نے کہا فوج اور عوام میں خلیج پیدا نہیں ہونی چاہیئے، عمران خان کے خط کو پاس آن کیا جارہا ہے، بانی پی ٹی آئی کے خط پر کوئی خاطر خواہ عمل نہیں ہوا۔
پی ٹی آئی کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ ہمسایہ ملک نے صاف شفاف الیکشن کرائے وہاں سیاسی استحکام ہے، ہمارے ہاں حکمران عوام کے مینڈیٹ سے نہیں آئے بلکہ بٹھائے گئے ہیں، 8 فروری کے بعد ملک میں عدم استحکام نے جنم لیا، ہر طرف خوف اور غیر یقینی کی صورتحال ہے۔
شبلی فراز کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں آج تک شفاف انتخابات نہیں ہوئے، 2024 میں جعلی حکومت بنائی گئی، سیاسی عدم استحکام ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے، جب تک شفاف انتخابات نہیں ہوں گے، استحکام ممکن نہیں، 8 فروری کو عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر ناکام اور مسترد شدہ افراد کو مسلط کیا گیا، ملک میں اس وقت آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ملک میں صاف شفاف الیکشن نہیں ہوں گے، سیاسی استحکام نہیں آسکتا، عوام جانتے ہیں اکانومی کی کیا صورتحال ہے۔
پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 8 فروری کے الیکشن میں دھاندلی کی انتہا کی گئی، نتائج میں من پسند ردوبدل کیا گیا، الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں تضادات واضح ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی، سپریم کورٹ کو اس انتخابی دھاندلی کا فوری نوٹس لینا چاہیئے۔
پریس کانفرنس کے آخر میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے الیکشن کمیشن، عدلیہ اور حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: عمر ایوب نے کہا بانی پی ٹی ا ئی الیکشن کمیشن پی ٹی ا ئی نے پی ٹی ا ئی کے پاکستان میں کہنا تھا کہ کی صورتحال شبلی فراز نے کہا کہ رہنماو ں ملک میں رہی ہے

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان