UrduPoint:
2026-06-03@04:30:08 GMT

کیا پاکستان باسمتی چاول کے حقوق کا اکیلا مالک بن گیا؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT

کیا پاکستان باسمتی چاول کے حقوق کا اکیلا مالک بن گیا؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 فروری 2025ء) چند روز قبل آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھارت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جس میں اس نے باسمتی چاول کی برانڈنگ اور پیداوار کے خصوصی حقوق کو تسلیم کرنے کی اپیل کی تھی۔ پاکستان اور بھارت چاول کی اس اہم قسم پر ملکیت کا حق جتاتے ہیں۔ بھارت نے سن 2019 میں ان دونوں ممالک یہ درخواست دی تھی کہ باسمتی چاول پر ان کے حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے۔

اس کیس کا تاریخی پس منظر

بین الاقوامی سطح پر یہ ''قانونی جنگ‘‘ بھارت نے اس وقت چھیڑی، جب اس نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور یورپی یونین میں باسمتی چاول پر اپنے حق ملکیت کی درخواست دی۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھارت کی یہ درخواست مسترد کر دی ہے، تاہم یورپی یونین میں اس کا کیس ابھی زیر التوا ہے۔

(جاری ہے)

پاکستانی میڈیا کی چند ایک رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھارت کی درخواست مسترد کر کے پاکستان کو باسمتی چاول کے خصوصی حقوق دے دیے ہیں، لیکن اس معاملے سے باخبر اور اس تناظر میں حکومت پاکستان کو ڈیٹا فراہم کرنے والے ڈاکٹر محمد اعجاز کہتے کہ یہ بات مکمل طور پر درست نہیں۔

ڈاکٹر اعجاز کالا شاہ کاکو میں رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے پرنسپل سائنٹسٹ اور ڈائریکٹر ہیں۔ ان کے مطابق، ''حالیہ فیصلے باسمتی چاول پر دونوں ممالک کے حقوق کو تسلیم کرتے ہیں اور دونوں ہمسایہ ممالک کو اسے ایک مشترکہ ورثہ ماننا پڑے گا۔‘‘

ایک اور زرعی شعبے کے ماہر حامد ملک، جو کہ ایگریکلچر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا نے سن 2023 میں ہی باسمتی چاول پر انڈیا کا خصوصی حق ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

ان کے مطابق نیوزی لینڈ نے بھی اب چند دن پہلے یہی فیصلہ کیا ہے کہ انڈیا اکیلا باسمتی چاول کا ٹیگ استعمال کرنے کا حقدار نہیں۔ بھارت نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔

حامد ملک کہتے ہیں کہ یہ عدالتی فیصلے ''ایک طرح سے پاکستان کے حق‘‘ میں ہیں کیونکہ اگر فیصلہ بھارت کے حق میں آتا تو پاکستان کو اقتصادی طور پر بڑا نقصان ہوتا۔

وہ کہتے ہیں کہ باسمتی چاول کو دیگر اقسام کے مقابلے میں بہتر چاول سمجھا جاتا ہے اور اس نام کے تحت برآمدات پر پابندی کی صورت میں پاکستان کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا۔

باسمتی چاول کی پہلی قسم کب اور کہاں تیار ہوئی؟

ڈاکٹر محمد اعجازکہتے ہیں، ''باسمتی چاول کی کئی اقسام ہیں، جن میں سے کچھ پاکستان میں تیار کی گئی ہیں اور یہ خاص طور پر اپنی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے مشہور ہیں۔

‘‘

چاول کا نیا جین دریافت، 20 فیصد زیادہ پیداوار

ڈاکٹر اعجاز کا باسمتی کی ابتدا سے متعلق بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ اس چاول کی پہلی قسم سن 1933 میں پنجاب کے علاقے حافظ آباد میں تیار کی گئی تھی، جو اب پاکستان کی جغرافیائی حدود میں آتا ہے۔ تاہم اس وقت پنجاب ایک مشترکہ علاقہ تھا اور اسی تناظر میں بھارت بھی باسمتی چاول کے ٹیگ کو اُن اقسام کے لیے استعمال کر رہا ہے، جو ابتدا میں تیار کی گئی تھیں اور جن میں باسمتی 370 کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر اعجاز نے مزید بتایا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بعد ابھی یورپی یونین کی عدالت کا فیصلہ آنا باقی ہے، ''پاکستان نے اس حوالے سے پراڈکٹ کے جغرافیائی انڈیکس کی بنیاد پر تمام شواہد فراہم کیے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ بھارت یورپ میں بھی ایک بار پھر باسمتی چاول کے خصوصی حقوق حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔‘‘

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے فیصلوں کے بھارت پر اثرات

ماہرین کے مطابق آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے فیصلوں کی وجہ سے بھارت دباؤ محسوس کر رہا ہے کیونکہ یورپی یونین بھی انہی شواہد کو اہمیت دے سکتی ہے، جو ان دونوں ممالک کو فراہم کیے گئے تھے۔

حامد ملک کہتے ہیں، ''اصل بات یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کو نظرانداز کرتے ہوئے باسمتی چاول کا جغرافیائی انڈیکیٹر اسٹیٹس حاصل کرنے کی غیر منطقی اور بے بنیاد کوشش میں شکست کھائی ہے۔ بھارتی مصنف چندرشکرن، ڈاکٹر راج بیر سنگھ اور سوم ناتھ موہندرو، جو باسمتی پر کتاب کے مصنفین ہیں، نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جغرافیائی طور پر باسمتی کا تعلق پاکستان کے اس علاقے سے ہے، جو اس وقت متحدہ ہندوستان کا حصہ تھا۔

‘‘ پاکستان باسمتی چاول سے کتنا زرمبادلہ کماتا ہے؟

ماہرین سمجھتے ہیں کہ انڈیا اگر کسی صورت بین الاقوامی سطح پر یہ ثابت کر دیتا کے باسمتی چاول انڈیا کی ملکیت ہے تو پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا۔

ڈاکٹر اعجاز کا کہنا ہے کہ پاکستان تمام اقسام کے چاول کی برآمد سے سالانہ تقریباً چار ارب ڈالر کماتا ہے اور ان میں سے تقریباً ایک ارب ڈالر باسمتی چاول کی برآمد سے حاصل کیے جاتے ہیں۔

زرعی مصنوعات کی برآمد سے وابستہ افراد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے فیصلوں کو سراہتے ہیں کہتے ہیں کہ آئندہ برسوں میں ان کا پاکستان کی برآمدات پر مثبت اثر پڑے گا، کیونکہ اب دنیا کو زیادہ وضاحت کے ساتھ معلوم ہو گیا ہے کہ باسمتی چاول کا اصل پیداواری مرکزکہاں ہے؟

زرعی ماہر اور برآمد کنندہ عامر حیات بھنڈارا کہتے ہیں، ''ہم جلد ہی ان فیصلوں کے مثبت نتائج دیکھیں گے اور فائدہ ان کسانوں تک پہنچے گا، جو کھیتوں میں محنت کرتے ہیں۔‘‘

عامر حیات کو امید ہے کہ آئندہ برسوں کے دوران باسمتی چاول کی پیداوار اور برآمدات دونوں میں اضافہ ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے باسمتی چاول کی باسمتی چاول پر نیوزی لینڈ نے یورپی یونین ڈاکٹر اعجاز پاکستان کو کی برآمد بھارت نے کہتے ہیں چاول کا ہیں کہ

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا