بحرینی وفد کو سرمایہ کاری کی دعوت: وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات، ٹیکس کیسز جلد نمٹانے کی استدعا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے چیف جسٹس آف پاکستان یحیی آفریدی سے چیف جسٹس ہائوس میں ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں وزیر اعظم نے ملکی معاشی صورتحال اور معاشی و سکیورٹی چیلنجز پر بھی گفتگو کی۔ وزیر اعظم نے چیف جسٹس کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ بدھ کو وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر اعظم نے چیف جسٹس کے جنوبی پنجاب، اندرون سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں کا دورہ کرنے اور ملک میں انصاف کی موثر و بروقت فراہمی کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے اقدام کو سراہا۔ ملاقات میں وزیر اعظم نے ملکی معاشی صورتحال اور معاشی و سکیورٹی چیلنجز پر بھی گفتگو کی۔ وزیر اعظم نے ملک کی مختلف عدالتوں میں طویل مدت سے زیر التواء ٹیکس تنازعات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے چیف جسٹس سے ان کیسز میں میرٹ پر جلد فیصلوں کی استدعا کی۔ چیف جسٹس نے وزیر اعظم سے نظام انصاف میں بہتری لانے کیلئے تجاویز بھی مانگ لیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس یحیی آفریدی نے وزیر اعظم کی جانب سے نظام انصاف کی بہتری کیلئے کی گئی گفتگو کا خیر مقدم کیا۔ وزیر اعظم نے چیف جسٹس کو لاپتہ افراد کے حوالے سے موثر اقدامات میں تیزی لانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، رجسٹرار سپریم کورٹ محمد سلیم خان، سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان تنزیلہ صباحت بھی شریک تھے۔ علاوہ ازیں نوائے وقت رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس سے ملاقات کی۔ ملاقات چیف جسٹس کے ریفارمز ایجنڈے کا حصہ ہے۔ چیف جسٹس نے عدالتی پالیسی ساز کمیٹی اجلاس کا ایجنڈا بھیج کر تجاویز مانگی تھیں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے وزیراعظم سے گفتگو میں کہا کہ عدالتی پالیسی سازی پر اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لوں گا۔ اپوزیشن سے بھی تجاویز لیں گے تاکہ اصلاحات غیر متنازع اور پائیدار ہوں۔ وزیراعظم کے ہمراہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر احد چیمہ، رجسٹرار سپریم کورٹ، سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمشن بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔ چیف جسٹس کی جانب سے وزیراعظم کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی۔ وزیراعظم سے بحرین کی مجلس النواب کے سپیکر احمد بن سلمان ال مسالم کی قیادت میں11 رکنی پارلیمانی وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے بحرین کے فرمانروا عزت مآب حمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ شہباز شریف نے پاکستان اور بحرین کے موجودہ تجارتی حجم کو مزید بڑھانے پر زور دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے برادرانہ تعلقات انتہائی مضبوط اور مشترکہ عقیدے، تاریخ و ثقافت پر مبنی ہیں، عوامی رابطوں کو مزید بڑھانے کیلئے پارلیمانی وفود کے تبادلے انتہائی اہم ہیں۔ ایسے اقدامات سے دونوں برادر ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ شہباز شریف نے بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بحرین میں موجود پاکستانی مختلف شعبوں میں انتہائی اہم خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستان، بحرین اور پوری امت مسلمہ غزہ اور فلسطین میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کی امداد کیلئے اپنی کوششیں تیز کریں۔ ملاقات میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، معاون خصوصی طارق فاطمی اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کو ریگولیٹ کرنے پر مشاورت جاری ہے۔ اقتصادی مشاورتی کونسل کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہوا، جس میں کونسل ارکان نے حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل کے لیے تجاویز دیں، جس کا وزیر اعظم نے خیر مقدم کیا۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاشی استحکام فرد واحد نہیں، بلکہ پوری ٹیم کی کاوشوں کی بدولت ممکن ہوا۔ معیشت کی پائیدار ترقی کے حوالے سے مزید محنت کے لیے پر عزم ہیں۔ خطے میں تجارت کے فروغ کی موجودہ استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقامی صنعت کو اس قابل بنائیں گے کہ ہماری برآمدات بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں۔ صنعت، زراعت آئی ٹی کی ترقی، روزگار کی فراہمی اور برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ ملک میں گرین ڈیٹا سینٹرز کے قیام کیلئے بھی حکومت کوشاں ہے۔ ملک میں ٹیلی کمیونی کیشن سروسز کی بہتری اور دْور دراز علاقوں تک انٹرنیٹ کی رسائی سے آئی ٹی برآمدات اور فری لانسرز کی تعداد میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔ اسی طرح ڈیجیٹل کرنسی کو ریگیولیٹ کرنے کے حوالے سے بھی مشاورت جاری ہے۔ اجلاس میں جہانگیر خان ترین، ثاقب شیرازی، شہزاد سلیم، مصدق ذوالقرنین، ڈاکٹر اعجاز نبی، آصف پیر، زید بشیر اور سلمان احمد کے علاوہ وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت علی پرویز ملک، وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین، اسلامی اصولوں کے مطابق بلا امتیاز سب کے لیے سماجی انصاف اور مساوات کی ضمانت دیتا ہے، حکومت نے 'اڑان پاکستان' پروگرام کے تحت سماجی انصاف کے بین الاقوامی دن کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ، مساوات، اخلاقیات اور لوگوں کو بااختیار بنانے پر زور دینے کے لیے متعدد موثر اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ سماجی انصاف کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 20 فروری کو ہم سماجی انصاف کا عالمی دن مناتے ہیں تاکہ دنیا بھر کے تمام لوگوں کے لیے مساوات، انصاف اور وقار کو فروغ دیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعظم نے چیف جسٹس سماجی انصاف کے حوالے سے ملاقات میں بحرین کے کی دعوت کہا کہ کے لیے نے کہا
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔