پشاور کا کرکٹ اسٹیڈیم، جن کے نام سے منسوب ہے وہ ارباب نیاز کون تھے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور کے واحد بین اقوامی معیار کے کرکٹ اسٹیڈیم ارباب نیاز کا نام تبدیل کرکے ’عمران خانکرکٹ اسٹیڈیم‘ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے منظوری دے دی ہے، اب یہ معاملہ کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔
وزیرا علیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے منظور کردہ سمری میں ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کے قیام سے لے کر مختلف امور کاذکر کیا گیا ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ صوبے میں بین الاقوامی معیار کے کھیل کی سہولیات صوبائی یا وفاقی حکومتوں کے ذریعے فراہم کی گئیں۔ اور سیاسی شخصیات اور سابق بین الاقوامی/قومی سطح کے کھلاڑیوں کی خدمات کے اعتراف میں ان کے ناموں سے منسوب کرنے کافیصلہ کیاگیا۔
سمری کے مطابق لالہ ایوب ہاکی اسٹیڈیم اور عبدالقیوم اسٹیڈیم پشاور اسپورٹس کمپلیکس کا نام بھی اہم شخصیات سے منسوب ہیں جبکہ عبدالولی خان اسپورٹس کمپلیکس چارسدہ اور اوزی محب ہاکی اسٹیڈیم بنوں بھی اہم شخصیات سے منسوب ہیں۔چونکہ عمران خان کی گراں قدر خدمات ہیں، اس لیے ارباب نیاز اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے عمران خان اسٹیڈیم رکھا جائے گا۔
پشاور کے بااثر سیاسی خاندان کے ارباب نیاز
ارباب نیاز کا پورا نام محمد نیاز خان تھا جو پشاور کے علاقہ تہکال کے بااثر سیاسی ارباب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کمیشن حاصل کرکے پاک فوج میں شمولیت حاصل کی تھی۔
پشاور کے سینئیر صحافی احتشام طورو کے مطابق ارباب نیاز با اثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ جب وہ پاک فوج میں لیفٹیننٹ کرنل تھے تو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت کے خلاف 1951ء میں ہونے والی مبینہ بغاوت راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہوکر فوج سے سبکدوش ہوئے۔ فیض احمد فیض بھی ان کے ساتھ اسیر رہے تھے۔
احتشام طورو نے بتایا کہ ارباب محمد نیاز بغاوت کیس میں ریاست کی جانب سے عام معافی ملنے پر رہا ہوئے تھے۔ بعدازاں وہ ضیا الحق دور میں وفاقی وزیر بھی رہے۔
ارباب نیاز کا خاندان سیاسی طور پر بااثر ہے۔ ان کے بھائی ارباب جہانگیر خان وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور وفاقی وزیر رہے تھے۔ جبکہ ارباب نیاز جنرل ضیاء الحق کابینہ میں کھیل، ثقافت و سیاحت کے وفاقی وزیر تھے۔ وہ پشاور کے میئر بھی رہے۔ جبکہ ارباب نیاز کے دوسرے بھائی ارباب فتح محمد خان بھی پشاور کے میئر رہے ہیں۔
ارباب نیاز کا خاندان اب بھی سیاست میں سرگرم ہے۔ ان کے بیٹوں میں ارباب طارق پشاور کے میئر، ارباب شہزاد خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور وزیراعظم عمران خان کے مشیر، تیسرے بیٹے ارباب دوست محمد کمشنر افغان مہاجرین رہے۔ پی ٹی آئی کے موجودہ رکن قومی اسمبلی ارباب شیر علی ارباب نیاز کے پوتے ہیں۔
ارباب شہزاد ملازمت سے ریٹارمنٹ کے بعد پی ٹی آئی میں ہیں۔ وہ عمران خان کابینہ کا حصہ بھی تھے۔ جبکہ ارباب نیاز کے بھتیجے ارباب عالمگیر بھی سیاست میں ہیں اور پی پی پی سے وابستہ ہیں۔ ان کے بیٹے ارباب زرک اس وقت رکن خیبر پختونخوا اسمبلی ہیں۔
نیا اسٹیڈیم نہ بنا سکے تو نام تبدیل کر دیا
صوبے میں حکمران پاکستان تحریک انصاف پشاور کے علاقہ ریگی میں عمران خان سے منسوب نیا اسٹیڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ لیکن اب پشاور کے واحد کرکٹ اسٹیڈیم کا نام ہی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صحافی انور زیب کے مطابق پشاور کا با اثر ارباب خاندان نام نہیں بچا سکا۔ ان کے مطابق ارباب خاندان کے افراد ہر سیاسی جماعت میں موجود ہیں اور پی ٹی آئی میں بھی ہیں لیکن اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کو نہیں روک سکے۔
پشاور کے صحافی زائد امداد کے مطابق حکومت کو چاہیے تھا کہ نیا اسٹیڈیم بنا کر اسے عمران خان سے منسوب کرتی تو بہت اچھا ہوتا۔
‘نام تبدیل کرنا کون سا بڑا کارنامہ ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ نیا اسٹیڈیم بناتے جس سے صوبے کو بھی فائدہ ہوتا۔’
زائد امداد نے کہا کہ حکومت کو نام تبدیل کرنے میں دلچسپی ہے، کام سے نہیں۔ یہ سلسلہ گزشتہ 8 سال سے جاری ہے اور ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ انہوں نے کہا کہ نام تبدیل کرنے سے میچز نہیں ہوں گے۔ حکومت پشاور میں پی ایس ایل اور بین الاقومی میچز بحال کرنے کے لیے اقدامات کرے جن کا شائقین کرکٹ بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:ارباب نیاز اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے ’عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم‘ رکھنے کی منظوری
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا ارباب نیاز کا نیا اسٹیڈیم تبدیل کرنے کہ ارباب کے مطابق پشاور کے
پڑھیں:
ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
ایشین گیمز 2026 کی مردوں کی کرکٹ کے ڈرا کا اعلان کردیا گیا، جس کے تحت پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے (کوارٹر فائنل) میں جگہ مل گئی ہے۔
20 ستمبر سے جاپان کے شہر ناگویا میں شروع ہونے والے 10 ٹیموں پر مشتمل مردوں کے کرکٹ مقابلوں میں ابتدائی مرحلے میں افغانستان، ہانگ کانگ، جاپان، ملائیشیا، نیپال اور عمان ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے، جہاں سے 4 ٹیمیں کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ’دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گئے‘: نور زمان ورلڈ گیمز اسکواش فائنل سے دستبردار، سلور میڈل حاصل
قرعہ اندازی کے مطابق گروپ اے میں افغانستان، جاپان اور نیپال شامل ہیں، جبکہ گروپ بی میں ہانگ کانگ، ملائیشیا اور عمان کو رکھا گیا ہے۔ دونوں گروپوں کی سرفہرست 2، 2 ٹیمیں کوارٹر فائنل میں پہنچ کر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کا سامنا کریں گی۔
دوسری جانب خواتین کے کرکٹ مقابلے 17 سے 22 ستمبر تک کھیلے جائیں گے، جن میں تمام 8 ٹیمیں براہِ راست کوارٹر فائنل سے اپنی مہم کا آغاز کریں گی۔
قرعہ اندازی کے مطابق دفاعی چیمپیئن بھارت کا مقابلہ میزبان جاپان سے ہوگا، بنگلہ دیش چین کے خلاف میدان میں اترے گا، سری لنکا ملائیشیا سے ٹکرائے گا، جبکہ پاکستان کی خواتین ٹیم کا پہلا میچ تھائی لینڈ کے خلاف ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ارشد ندیم تاریخ میں رقم، ماضی میں کب کب پاکستان کا جھنڈا سب سے اونچا رہا؟
ایشین گیمز میں مردوں اور خواتین کے تمام کرکٹ میچز ٹی20 فارمیٹ میں کھیلے جائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایشین گیمز، جو 2023 میں چین کے شہر ہانگژو میں منعقد ہوئی تھیں، میں بھارت نے مردوں اور خواتین دونوں کیٹیگریز میں سونے کے تمغے اپنے نام کیے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایشیئن گیمز بھارت پاکستان کوارٹر فائنل