پاکستانی قوم کیا چاہتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
پاکستانی قوم کو معیشت کے حوالے سے شایع کردہ کسی بھی رپورٹ سے کوئی دلچسپی ہے نہ کوئی غرض ہے کہ پہلی، دوسری اور تیسری سہ ماہی کے دوران معاشی کارکردگی کیسی رہی ہے اور نہ ہی اس بات سے غرض ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ملکی معیشت کا انحصار غیر ملکی قرضوں پر رہا کہ نہیں۔
برآمدات و درآمدات میں کمی ہوئی یا ان میں اضافہ ہوا۔ شرح نمو کتنے فیصد رہی۔ ہدف حاصل کیا گیا کہ نہیں۔ سالانہ ٹیکسوں کی وصولیوں میں اضافہ ہوا یا کمی ہوئی۔ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کتنے فیصد رہا۔ حکومتی اخراجات میں اضافہ ہوا یا کمی ہوئی، روپیہ مستحکم رہا یا کمزور رہا۔
مہنگائی میں کمی ہوئی کہ نہیں، زرمبادلہ کے ذخائر دگنے ہوگئے یا ان میں کمی آئی۔ ملکی معیشت میں بہتری آئی کہ نہیں۔ اتحادی سپورٹ فنڈز میں اچھی وصولیاں ہوئیں کہ نہیں۔ وزیر خزانہ کیا کہتا ہے کیا نہیں۔ ملک میں فی کس آمدنی کتنی ہے۔
ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی کیا اوقات ہے۔ افراط زر میں کمی ہوئی یا اضافہ ہوا۔ پائیدار ترقی کے لیے نمو کو زیادہ جامع بنایا گیا کہ نہیں۔ ملک میں اقتصادی نمو میں اضافہ ہوا یا کمی ہوئی ہے۔ پاکستانی معیشت بلندیوں کو چھو رہی ہے یا کہ تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ پاکستان کو سالانہ کتنے فیصد شرح نمو کی ضرورت ہے۔
ملک میں کتنی غربت ہے۔ غربت کو ختم کیا جاسکا کہ نہیں۔ اس وقت کتنے چوتھائی پاکستانی شہری خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ تھنک ٹینک کی رپورٹ کیا کہتی ہے کیا نہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک میں پاکستان کا کون سا نمبر ہے۔ حکومت منصوبہ بندی کرتے ہوئے عوام کی خوشی کو خصوصی اہمیت دیتی ہے کہ نہیں۔ اسی طرح کے دیگر ملکی معاملات میں پاکستانی قوم کو کوئی سرو کار نہیں۔
کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی وہ کوئی بڑی تبدیلی چاہتی ہے کیوں کہ وہ مختلف قسموں کی تبدیلیوں سے گزر کر کندن بن چکی ہے۔پھر آخر پاکستانی قوم کیا چاہتی ہے؟ پاکستانی قوم کی خوشیوں کا یہ عالم ہے کہ وہ صرف اتنا چاہتی ہے کہ پانی کی سبیل، مٹکے، کولرز کے ساتھ رکھا گیا گلاس زنجیروں میں جکڑا ہوا نہ ہو۔
سجدہ کرتے ہوئے اس کا دھیان جوتوں کی چوری کی طرف نہ ہو۔ دو وقت کی روٹی کی خاطر کسی کو اپنی عصمت نہ بیچنی پڑے۔ کسی معصوم بچے کے کاندھے پر بوٹ پالش کا بکس نہ ہو۔کوئی بڑا انقلاب، کوئی بڑی تبدیلی قوم نہیں چاہتی ہے۔
قوم محض اتنا چاہتی ہے کہ پٹرول کی قیمت چیتے کی رفتار سے تیز نہ ہو۔ سونے کی قیمت ہرن کی رفتار کی مانند نہ ہو۔ سبزیوں کی قیمتیں کینگرو کی رفتار کی طرح اچھلتی ہوئی نہ ہوں۔ بجلی، گیس اور موبائل فونز کے بلز و چارجز خرگوش کی رفتار کی مانند نہ ہوں۔
ملازمین اور مزدوروں کی تنخواہیں اور اجرتیں کچوے کی چال کے موافق نہ ہوں۔اس وقت صورت حال ہمیشہ کی طرح بد سے بدتر ہے۔ عوام پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ مہنگی بجلی، مہنگی گیس کے ناجائز بلز، ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں نفسیاتی مریض بنے ہوئے ہیں۔ عدالتیں کتوں کے تحفظ کے لیے انسانی جانوں کو کتوں کے رحم و کرم پر چھوڑے ہوئے ہیں یعنی انسانی جانوں کی قیمتیں کتوں کی جانوں سے کم تر ہیں۔
انسانی جان مال و متاع عدم تحفظ کے شکار ہیں جو چاہے انھیں لوٹے اور قتل کرے ملک میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکار اوپر کے احکامات کے محتاج ہیں جو اوپر والے ہیں وہ اپنی موج مستیوں میں مگن ہیں ان کی طرف سے عوام جائیں بھاڑ میں، انھیں صرف اوپر کی آمدنی سے غرض ہے جو انھیں ملنی چاہیے۔ روزگار کے دروازے غریبوں کے لیے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے گئے ہیں تاکہ غریب سسک سسک کر مرجائیں۔
مہنگائی نے لوگوں کو خود کشی و ڈکیتی کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جو ایسا نہیں کرسکتے وہ زندہ درگور ہیں۔ یہ معیشت کی کون سی ترقی ہے کہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں سرکاری نرخ کے بجائے تاجر و دکان دار اپنی من مانی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔
ٹماٹر، آلو، پیاز، مرچیں، دھنیا، پودینا، توری، لوکی، گوبھی، کھیرا، بھنڈی، لہسن، ادرک، پھول گوبھی، سلاد کے پتے اور دیگر سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ بکرے، گائے اور مرغی کا گوشت غریب طبقے کی پہنچ سے دور ہیں۔ انڈوں، دالوں کی قیمتیں لوگوں کو کان پکڑوا دیتی ہیں۔
چینی، آٹا، چاول، بیسن، دودھ، دہی کی قیمتیں بھی گراں فروشی کا شکار ہیں۔ صحت کے لیے پھل ضروری ہیں جو غریبوں کی دسترس سے دور بہت دور کر دیے گئے ہیں اسی طرح دیگر اشیا کی قیمتیں ہوش ربا ہیں۔ مہنگائی کنٹرول کرنے والی اتھارٹیز نے مہنگائی مافیا کو رشوت کے بدلے لوٹ مار کا لائسنس دے رکھا ہے۔
پٹرول کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ اور معمولی کمی کی پالیسی آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ مہنگائی کی یہ اونچی اونچی لہریں طوفان برپا کیے ہوئے ہیں جس سے ہر گھر میں قیامت صغریٰ ہے۔جمہوری حکومتیں عوام کو سہولیات دینے کے طور طریقے ڈھونڈتی ہیں مگر ہمارے جمہوری حکمران عوام سے ریلیف بھی چھین رہے ہیں۔
مہنگائی کا یہ عفریت غریبوں کا سرمہ بنا رہا ہے۔ مہنگائی کا گراف اس قدر بلند ہے کہ جیسے غریب عوام پر ایٹم بم گرایا گیا ہو۔ غریب آدمی کی پریشانیاں انھیں نفسیاتی امراض میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ غریبوں کو ایک وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں رہا۔
عوام کی محرومیاں انتہا کو پہنچ چکی ہیں ۔ خاندانوں کے خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دو کروڑ کے قریب مستقبل کے معمار بچے محنت مزدوری کرکے اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ ملک میں لاکھوں محنت کش بے روزگار ہیں ان میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ملک کا چالیس فیصد پڑھا لکھا طبقہ بے روزگار ہے۔
لاکھوں کی تعداد میں نوجوان بیرون ممالک ہجرت کر رہے ہیں۔ کچھ منزل مقصود پر پہنچ پاتے ہیں اور کچھ انسانی اسمگلرز کے جھانسے میں آکر اپنی زندگی سمندر کی بے رحم تیز لہروں کی نذر کر رہے ہیں یعنی زندگی کی تلاش میں موت کے منہ میں چلے جا رہے ہیں۔
ہمارے وطن عزیز میں غریبوں کی تنخواہیں اور اجرتیں بڑھانے کا تصور ہی نہیں ہے اس ضمن میں حکومتی اعلانات و احکامات ہوا میں تحلیل ہوتے رہتے ہیں، حکومتیں آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر بھاری قرضے لے لے کر غریب عوام پر ٹیکسز لاگو کرکے غریب عوام سے ان کے جینے کا حق چھین چکے ہیں اس کے باوجود حکمران طبقہ سمجھتا ہے کہ غریب عوام پھر بھی زندہ کیوں ہیں تو خدارا! وہ ایک کام کریں کہ دشمن کے لیے بنایا گیا ایٹم بم ہی عوام پر گرا دیا جائے تاکہ سسک سسک کر مرنے سے بچا جاسکے ۔
تاسف کا مقام ہے ایک طرف ملک کی اکثریتی عوام کا جینا مشکل تر بنا دیا گیا ہے تو دوسری طرف حکمران اپنی تنخواہیں اور مراعات جو کہ پہلے ہی سے بھاری بھرکم تھے ان میں مزید تین گنا اضافہ کردیا گیا ہے اسی طرح سرکاری افسران بالا کو بھی خوشیوں سے مالا مال کیا گیا ہے تاکہ کمزور حکومت مضبوط رہ سکے۔
لے دے کر بیچاری عوام ہے تو ان کی طرف سے جائیں بھاڑ میں۔خاکم بدہن کل کلاں کو ملک کو کچھ ہوجائے تو ان اشرافیا کو کوئی پرواہ نہیں کیوں کہ یہ پاکستان ان کا اصل وطن نہیں ہے یہاں یہ صرف اپنے مغربی آقاؤں کی چاکری کرتے ہیں۔
نوکری کرکے وہ اپنے آبائی وطن مغربی ممالک میں جا بسیں گے اور ہمارا پیارا وطن پاکستان خاکم بدہن ٹائیں ٹائیں فش۔پاکستانی کچلے ہوئے غریب عوام اپنے کروڑ پتی، ارب پتی اور کھرب پتی حکمرانوں سے اور کچھ نہیں مانگتے صرف باعزت جینے کے لیے پرسکون زندگی چاہتے ہیں جب کہ حکمران انھیں دن بہ دن موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ غریب عوام تالیاں بجائیں اور زندہ باد کے نعرے لگائیں۔ معاف کیجیے۔ اب ایسا ممکن نہیں رہا۔ پاکستانی قوم بہت کچھ سمجھ چکی ہے اب وہ کسی کے جھانسے میں آنے والی نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں اضافہ ہوا پاکستانی قوم کر رہے ہیں کی قیمتیں غریب عوام کمی ہوئی چاہتی ہے کی رفتار ہوئے ہیں ہیں اور کہ نہیں ملک میں کے لیے
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔