الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوگیا ،مخصوص نشستیں ہمارا حق ہے ہمیں ملنی چاہئیں، بیرسٹرگوہر
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوگیاہے ، مخصوص نشستیں ہمارا حق ہے اور ہمیں ہی ملنی چاہئیں، آج پورا سال ہو گیا پی ٹی آئی کو سرٹیفکیٹ نہیں ملا،الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماء پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو احساس کرنا چاہیے۔ ایک سال ہوگیا یہ مکمل ہونا چاہیے۔ ہمارے بعد انٹرا پارٹی الیکشن کرانے والی جماعتوں کو سرٹیفکیٹ ملے۔ مخصوص نشستوں کیلئے بھی الیکشن کمیشن نے ہمارا آرڈر روکا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی کیس الیکشن کمیشن کے سامنے ہے۔ آج الیکشن کمیشن نے ہماراکیس 8 اپریل تک ملتوی کر دیاہے۔ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں ہمارے حق میں آرڈر دیا تھا۔لہٰذا الیکشن کمیشن جلدازجلد نوٹیفکیشن جاری کرے۔انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستیں ہمارا حق ہے لیکن اس سلسلے میں الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے میں بالکل ناکام ہوگیا ہے۔ حکومت نے نئے الیکشن کمشنر کی تقرریر کیلئے ابھی تک کوئی پراسیس شروع نہیں کیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی طرف سے ابھی تک نئے الیکشن کمشنر کے تقرر کیلئے کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی ہے۔ ہماری طرف سے نام تیار ہیں جیسے ہی کمیٹی بنے گی پراسیس شروع کریں گے۔گفتگو کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ 25 جنوری کو چیف الیکشن کمشنر، ممبر پنجاب اور ممبربلوچستان ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ آئین کے تحت ان کا تعین 45 دن کے اندر ہونا چاہیے اور اس کیلئے پارلیمنٹری کمیٹی بننی چاہیے، ہم نے قومی اسمبلی کے سپیکر سے بھی درخواست کی ہے کہ آپ اس معاملے کیلئے کمیٹی بنائیں۔ یہ پراسیس مکمل ہونا چاہیے۔ یہ آئینی تقاضا ہے۔خیبرپختونخوا ہ میں سینیٹ کا الیکشن نامکمل ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ خیبرپختونخواہ سینیٹ کا الیکشن بھی ہر صورت ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن ہونا چاہیے پی ٹی آئی
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔