جب روبوٹس ڈانس کرنے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
جب روبوٹس ڈانس کرنے لگیں WhatsAppFacebookTwitter 0 25 March, 2025 سب نیوز
بیجنگ: “آپ یونیٹری G1 کے ساتھ کون سا ڈانس کرنا چاہیں گے؟” حال ہی میں، ہانگ چو کی ٹیکنالوجی کمپنی یونیٹری نے روبوٹ کے ڈانس کی ایک ویڈیو جاری کی جس کا آغاز ہی یہ دلچسپ سوال تھا۔پھر اس کے بعد چینی کونگ فو کرتے ہوئے اس روبوٹ کی ویڈیو نے تو غیر ملکی میڈیا کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔ درحقیقت، روبوٹس کی سرگرمیاں تیزی سے زندگی کے مختلف شعبوں میں داخل ہورہی ہیں۔ بجلی کے معائنے، فائر فائٹنگ، سمندری ریسکیو جیسے شعبوں کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی میں بھی ان کے افعال میں تنوع آ رہا ہے ۔موسیقی ، رقص ، تھائی چی کی مشق ، یہاں تک کہ یہ بچوں کےلیے ریاضی کے سوالات بھی حل کر سکتے ہیں ۔
لوگ ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ پہلے روبوٹس صرف گھر کی صفائی کرتے تھے، اب تو “موسیقی، شطرنج، خطاطی اور مصوری” جیسے فنون میں بھی ماہر ہو گئے ہیں۔روبوٹس کی یہ کثیرصلاحیتیں چین کی کھپت میں ہونے والی تبدیلیوں اور ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاس ہیں۔ چین میں متوسط آمدنی والی آبادی تقریباً 40 کروڑ ہے، اور امکان ہے کہ یہ 2035 تک 80 کروڑ تک پہنچ جائے گی ۔ آبادی کا یہ طبقہ کھپت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آمدنی میں اضافے کے ساتھ صارفین کی ترجیحات اور ضروریات بھی تبدیل ہو رہی ہیں، جو نہ صرف صارفی صنعتوں کو جدید بنانے بلکہ جدت طرازی کو بھی تقویت دے رہی ہیں ۔ چائنا ڈویلپمنٹ فورم میں شرکت کے دوران ٹیپسٹری گروپ کی جاؤ نین کریووئےسیرات نے سی جی ٹی این کو بتایا کہ چینی صارفین کی تیزی سے بدلتی ترجیحات اور ڈیجیٹل شمولیت نے کمپنی کو مسلسل جدت پر مجبور کیا ہے۔
چین سے حاصل ہونے والے ڈیجیٹل تجربات، جیسے لائیو اسٹریمنگ ،ای-کامرس اور سرکلر اکانومی کے تصورات، اب عالمی سطح پر کمپنی کی حکمت عملی کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ کھپت کی ترقی کی بنیاد چین میں مکمل صنعتی چین اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مضمر ہے۔ مثال کے طور پر،صوبہ شان ڈونگ کی چھاؤ کاؤنٹی میں ڈیجیٹل ڈیزائننگ سسٹم کی مدد سے چینی روایتی ملبوسات” ہانگ فو” کے نئے ڈیزائنز کی تیاری کا دورانیہ 7 دن تک کم ہو گیا ہے۔صوبہ گوانگ ڈونگ کے چونگ شان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں گھریلو استعمال کے آلات کے ہزاروں کارخانے ہیں۔اور صوبہ زے جیانگ کے شہر ای وو میں ثقافتی اور تخلیقی صنعت ہر روز سیکڑوں نئی مصنوعات لانچ کر کےسرحد پار ای کامرس کے ذریعے دنیا بھر کے صارفین تک تیزی سے پہنچاتی ہے۔حکومتی پالیسیاں بھی اس عمل میں تعاون کر رہی ہیں۔ مارچ 2025 میں چین نے “کھپت کو فروغ دینے کے خصوصی اقدامات” جاری کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے دروازے مزید کھولے جا رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری تک رسائی کے لئے منفی فہرست کو کئی بار ترمیم کر کے آسانیاں پیدا کی گئی ہیں اور ٹرانزٹ ویزا فری پالیسی کے دائرے میں مسلسل توسیع کی گئی ہے۔
ٹیلی کام، تعلیم، اور صحت کے شعبوں میں غیر ملکی کمپنیوں کے لیے شرائط نرم کی گئی ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف چینی صارفین کو زیادہ اختیارات دے رہے ہیں بلکہ عالمی برانڈز کو بھی نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ کھپت کی ترقی درحقیقت خوشحالی کے لیے انسان کی جستجو ہے۔ جب روبوٹس ڈانس کرنے لگیں، تو یہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ کھپت کی اپ گریڈنگ میں معیشت کی ایک حقیقی تبدیلی ہے۔بنیادی ذرائع معاش کی ضروریات سے مزید خوبصورت زندگی کی خواہش تک، “میڈ ان چائنا” سے ” چائنیز انٹیلیجنٹ مینوفیکچرنگ” تک ، یہ عمل 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ اپ نے لاسٹ ٹائم گاڑی کی ٹینکی یا موٹر سائیکل کی ٹینکی کب فل کرائی تھی تو 100 میں سے تقریباً 90 لوگوں نے کہا کہ ان کو تو یاد ہی نہیں ہے کہ ٹینکی بھی کبھی فل کرائی تھی۔
گاڑی میں سوار اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ دو ہزار کا تو کبھی تین ہزار کا تو بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پٹرول ڈلوایا تھا جبکہ موٹر سائیکل سوار تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے، کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔
کچھ موٹرسائیکل سواروں نے 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں۔
یہ تو مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں ۔
کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹینکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار کا تو کبھی ڈھائی ہزار کا پٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے کیونکہ بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا۔
اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی ایمرجنسی ہو تو تب گاڑی نکالی جاتی ہے جبکہ پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسییشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے، اب تو پٹرول پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے، تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔
بجلی کے بل پہلے جو پٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگ گئے ہیں اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے، جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ اکثر گھروں میں تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے۔
اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔
بہرحال پٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹینکی فل کرانا صرف ایک خواہش ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔