اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 اپریل 2025ء) ویسے تو پوٹھوار میں چھوٹے بڑے کئی قلعے ہیں لیکن اپنی تاریخی حیثیت کی بنا پر تین بہت معروف ہیں، روات، روہتاس اور پھروالہ۔ ان میں سے پھروالہ قدیم ترین ہے جسے تقریباً ایک ہزار سال قبل گکھڑوں نے تعمیر کیا۔

گکھڑوں کی ساڑھے سات سو سالہ حکومت

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق گکھڑوں کا تعلق قدیم انڈین قبائل ابھیر سے ہے، جو طویل عرصہ ہندو شاہی کا اہم عسکری دستہ رہے۔

اے ایس بزمی انصاری کے انسائیکلوپیڈیا آف اسلام کے مطابق، ”تقریباً تیس ہزار گکھڑوں نے پشاور کے قریب محمود غزنوی کے خلاف جنگ لڑی لیکن شکست سے دوچار ہوئے۔ بعد میں سلطان محمد غوری کے دور تک گکھڑ اسلام قبول کر چکے تھے۔

(جاری ہے)

"

البتہ سترہویں صدی میں لکھی گئی کتاب 'کئے گوہرنامہ‘ کے مصنف دوئی چند کی رائے مختلف ہے۔ ان کے خیال میں گکھڑ مقامی قبیلہ نہیں بلکہ یہ محمود غزنوی کے ساتھ آئے تھے، جس نے پوٹھوار کا خطہ ان کے حوالے کیا۔

جہاں تک قلعہ پھروالہ کا تعلق ہے تو اس پر اکثر محققین کا اتفاق ہے کہ یہ گیارہویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔

قلعہ پھروالہ کی تعمیر

پاکستان کے خطہ پوٹھوار پر عمدہ تحقیقی کتاب 'روال راج‘ کے مصنف سجاد اظہر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”پھروالہ کی بنیاد گیارہویں صدی میں رکھی گئی۔ اس پر کئے حملے ہوئے مگر زیادہ تر یہ ناقابلِ تسخیر رہا۔

مغل بادشاہ بابر نے پھروالہ قلعہ فتح کیا مگر گکھڑوں سے صلح کے بعد انہی کو سونپ دیا۔ بعد میں شیرشاہ سوری نے بہت کوشش کی مگر وہ اسے فتح نہ کر سکا۔ اس نے روہتاس قلعہ تعمیر کروایا تاکہ گکھڑوں سے جنگ کر سکے۔ قلعے کے ایک طرف دریا ہے جبکہ دوسری طرف پہاڑ جو دفاعی نقطہ نظر سے اسے بہت حد تک ناقابلِ تسخیر بناتے ہیں۔"

محکمہ آرکیالوجی کی ویب سائٹ کے مطابق قلعہ پھروالہ کے چھ دروازے تھے، ہاتھی گیٹ، فورٹ گیٹ، لشکری گیٹ، زیارت گیٹ، باغ گیٹ اور بیگم گیٹ۔

ان میں سے محض بیگم گیٹ اور لشکری گیٹ ابھی خستہ حالت کے ساتھ موجود ہیں۔

تاریخی طور پر یہ ایک دفاعی قلعہ تھا، جہاں سو ہاتھی، پانچ ہزار گھوڑے اور دس ہزار فوجی تعینات رہتے تھے۔

قلعے کے اندر کی رہائشی عمارتوں کے نشان تک مٹ چکے ہیں۔ جو ڈھانچہ برقرار ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ قلعہ پتھر، سرخ مٹی اور چونے سے تعمیر کیا گیا۔

قلعے کے اندر ایک قدیم مسجد، آخری گکھڑ سردار سلطان مقرب خان کا مقبرہ، برگد کا انتہائی قدیم درخت اور اس کے نیچے سینکڑوں سالہ قدیم قبریں دیکھ کر آپ کئی صدیاں پیچھے چلے جاتے ہیں۔

قلعے کا زوال اور محکمہ آثارِ قدیمہ

سکھوں کے عہد میں گکھڑوں کے زوال کے ساتھ ہی پھروالہ قلعہ اپنی شان و شوکت کھونے لگا۔ سن 1947 سے پہلے یہ انگریزوں کے قبضے میں تھا۔

سجاد اظہر کہتے ہیں، ”پاکستان بننے کے بعد یہ قلعہ گکھڑ فیڈریشن کے پاس تھا، جن کے سربراہ کرنل سلطان ظہور اختر نے سن 1980 کی دہائی میں اسے وفاقی حکومت کے سپرد کر دیا۔

طویل عرصے تک نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے یہ مسلسل زبوں حالی کا شکار رہا۔ قلعے کے کئی حصے، بشمول قلعہ بندی کی دیواریں، وقت کے ساتھ منہدم ہو گئے۔ قریبی گھروں کی تجاوزات نے بھی اس تاریخی ڈھانچے کو متاثر کیا۔"

قلعہ پھروالہ کو وزٹ کرنے کے لیے جب ہم نے مقامی صحافی ملک عامر محمود سے رابطہ کیا تو انہوں نے احتیاط برتنے کی نصحیت کی۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ قلعہ اور اس کے قرب و جوار جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ قلعہ کی سرحد 'چراہ‘ نامی گاؤں کے ساتھ لگتی ہے۔ یہاں پہاڑ اور جنگلات ہیں، پوچھ پریت ہے کوئی نہیں۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا آ نکلے تو خدشہ رہتا ہے کہ لٹ کر ہی جائے گا۔"

محکمہ آثارِ قدیمہ بحالی کے راستے پر گامزن

ستمبر 2023 میں محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر نے طویل عرصے سے نظر انداز کیے گئے اس قلعے کی بحالی اور تحفظ کا کام شروع کیا۔

اس میں قلعے کے اردگرد گھنے جھاڑ جھنکار کو صاف کرنا، ملبے کی کھدائی اور تحفظاتی کاموں میں معاونت کے لیے مختلف سہولیات قائم کرنا شامل تھا۔

وہ کہتے ہیں، ”قلعہ اندر اور باہر سے منہدم ہو چکا ہے اور اس کی فصیلیں بھی غائب ہو رہی ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں۔ سیاحوں کے لیے قلعے تک پہنچنے کے لیے دشوار گزار راستے ہیں، کوئی سڑک موجود نہیں۔

"

ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے محکمہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الغفور لون کہتے ہیں، ”بنیادی طور پر دو پراجیکٹ تھے، قلعہ اور محکمہ آثارِ قدیمہ کے زیر انتظام آس پاس کا رقبہ پوری طرح جنگلی جھاڑ جھنکار میں گم ہو چکا تھا۔ دیواریں گر چکی تھیں اور لوگ وہاں قبضہ کیے بیٹھے تھے۔ ہم نے پورا دو کلومیٹر کا ایریا کلئیر کیا اور اس کی ڈاکومنٹیشن کی۔

"

وہ کہتے ہیں، ”اس کے بعد کا مرحلہ جائزہ لینا تھا کہ قلعہ کس حالت میں ہے؟ دیواروں اور دروازوں کو کس قدر مرمت درکار ہے؟ قلعے کے اندر کیا مزید ڈویلپمنٹ ہو سکتی ہے؟ مائی قمرو اور مقرب خان کا مقبرہ گلبرگ گرین کے ساتھ لگنے کی وجہ سے اڑتالیس کنال زمین پر قبضہ ہو چکا تھا، وہ خالی کروائی۔ رواں برس تیس جون تک ہم روپورٹ جمع کروا دیں گے کہ کس قدر مرمت ضرورت ہے اور کتنا بجٹ درکار ہو گا؟"

تاریخ کے سینے میں چھپے راز جو آشکار ہونے کے منتظر ہیں

سجاد اظہر کہتے ہیں، ”کچھ عرصہ پہلے دریافت ہوا کہ مقبرے کے احاطے میں موجود قبریں ان جنگجوؤں کی ہیں جو کسی معرکے میں کام آئے۔

اس دریافت کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ سکھ دور میں تعمیر کی گئی ایک چیک پوسٹ کی بنیادیں انہی قبروں کے اوپر رکھی گئی تھیں۔

یہ حقیقت کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے: چیک پوسٹ کی تعمیر کے وقت ان قبروں کی حرمت کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا؟ چیک پوسٹ کے نیچے والی قبریں کن کی ہیں؟ یہاں سے چاندی کی ایک انگوٹھی اور استعمال کی کچھ دیگر اشیاء دریافت ہوئی ہیں جن پر تحقیق جاری ہے۔

"

وہ کہتے ہیں، ”تاریخ کی کئی کتابوں میں ذکر ہے کہ اس قلعے کی بنیادیں پہلے سے موجود ایک قلعے پر رکھی گئی تھیں، امکان ہے مزید کھدائی کے بعد پرانے قلعے کے آثار ملیں۔ محکمہ آثارِ قدیمہ نے طویل عرصے تک اسے مکمل نظر انداز کیا۔ حوصلہ افزا بات ہے کہ اب اس طرف توجہ ہوئی۔"

ڈاکٹر عبدالغفور کہتے ہیں، ”پہاڑ اور دریا کی موجودگی میں یہ بنی بنائی سیرگاہ ہے۔ محکمے کی ترجیحات میں شامل ہے کہ اسے سیاحتی مقام میں تبدیل کیا جائے اور اس سلسلے میں ہمارا ادارہ پوری کوشش کر رہا ہے۔ یہ ہماری شناخت ہے، اسے محفوظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔"

ادارت: عاطف توقیر

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تعمیر کی کہتے ہیں کے ساتھ قلعے کے کے لیے کے بعد اور اس

پڑھیں:

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقے

نشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق

اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگ

اسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔

دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیل

محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی