Express News:
2026-06-03@05:46:07 GMT

یوٹیوبرز کے ہاتھوں یرغمالی پارٹی

اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT

عمران خان اور ریاست کے درمیان دوریاں ختم کرنے کی کوششیں تین کرداروں کے گرد گھومتی ہیں‘ پہلے کردار کا نام چوہدری تنویر احمد ہے‘ یہ سیالکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں‘ 1988میں امریکا گئے‘ ریستوران کا بزنس شروع کیا‘ اللہ نے کرم کیا اور ان کا شمار چند برسوں میں خوش حال امریکن پاکستانیوں میں ہونے لگا‘یہ ہیوسٹن میں رہتے ہیں‘ ہیوسٹن کے سب سے بڑے کرکٹ کمپلیکس کے مالک ہیں‘کرکٹ کلب بھی ’’اون‘‘ کرتے ہیں‘ اپنی فوڈ چین چلا رہے ہیں اور ٹرانسپورٹیشن کمپنی کے مالک بھی ہیں‘ امریکا اور پاکستان دونوں ملکوں میں ویلفیئر کے کام کرتے ہیں‘ عمران خان کے ساتھ ان کی پرانی دوستی ہے۔

 خان نے انھیں 2019  میں نارتھ امریکا میں پارٹی کا ڈپٹی سیکریٹری بھی بنایا تھالیکن یہ کیوں کہ سچے‘ کھرے اور منہ پر بات کرنے والے انسان ہیں لہٰذا یہ عہدہ زیادہ دیر تک ان کے پاس نہ ٹک سکا‘ شوکت خانم اور پی ٹی آئی دونوں کے پرانے ڈونرہیں‘ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی خان سے رابطے میں رہے‘ ان کو خان کی جارحانہ سیاست پر ہمیشہ اعتراض رہا‘ ان کا خیال تھا (اور آج بھی ہے) پارٹی کو سیاسی جماعت نظر آنا چاہیے باغی گروپ نہیں‘ پی ٹی آئی نے 30 اکتوبر 2022 کو آزادی مارچ کیا‘ مارچ کے دوران خاتون صحافی صدف نعیم کنٹینر سے گر کر فوت ہوگئی‘ تنویر احمد ان دنوں لاہور تھے‘ خان انھیں ساتھ لے کر 31 اکتوبر کو مرحومہ کے گھر گئے تھے یوں انھیں ان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع مل گیا‘ تنویر صاحب نے خان کو سمجھایا ’’آپ غلط سائیڈ پر چل نکلے ہیں‘ آپ کو نقصان ہو گا‘ احتجاج کی سیاست سے آج تک کسی جماعت کو فائدہ نہیں ہوا‘ آپ الیکشن پر فوکس کریں‘ اچھے امیدواروں کا تعین کریں اور پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر مقابلہ کریں‘ آپ جس راستے پر چل رہے ہیں یہ آپ کو تباہ کر دے گا‘‘ لیکن خان نہیں مانے‘ بہرحال قصہ مختصر پی ٹی آئی کے احتجاج چلتے رہے یہاں تک کہ 9 مئی کو خان کو گرفتار کر لیا گیا اوریوں پارٹی پر سختیاں بڑھنے لگیں۔

 یہ سختیاں الیکشن کے بعد بھی قائم رہیں‘ اس مشکل وقت میں  چوہدری تنویر احمد نے خان کے لیے حیران کن کام کیا‘ وہ کام کیا تھا لیکن میں اس سے قبل آپ کو دوسرے دونوں کرداروں کے بارے میں بھی بتاتا چلوں‘ دوسرا کردار عاطف خان ہیں‘ یہ بھی ہیوسٹن میں رہتے ہیں‘ عمران خان کے دوست اور پارٹی عہدیدار ہیں‘ آکشن کا کام کرتے ہیں‘ نیلامی میں اشیاء خرید کر ایکسپورٹ کرتے ہیں‘ یہ بھی خوش حال امریکن پاکستانی ہیں‘ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اسکواڈ بھی یہی چلاتے ہیں‘ پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم کے کپتان جبران الیاس امریکا میں عاطف خان کے پاس رہائش پذیر ہیں‘یہ ان کی حفاظت بھی کر رہے ہیں‘ امریکا میں پاکستانی ڈاکٹر بہت خوش حال اور بااثر ہیں‘ ان کی اکثریت عمران خان کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے‘ عاطف خان پارٹی اور ڈاکٹروں کے درمیان بڑا رابطہ ہیں‘ ڈاکٹروں کی صحبت کی وجہ سے لوگ انھیں بھی ڈاکٹر سمجھتے ہیں جب کہ یہ خود ڈاکٹر نہیں ہیں۔ تیسرا کردار سردار عبدالسمیع ہیں‘ یہ جنرل ضیاء الحق کے صاحب زادے اور سیاست دان اعجاز الحق کے دوست ہیں اور یہ بھی امریکا میں کاروبار کرتے ہیں۔

ہم اب اصل کہانی کی طرف آتے ہیں‘چوہدری تنویر احمد پاکستان میں ویلفیئر کے پروجیکٹ کرتے رہتے ہیں‘ 2023میں انھوں نے نسٹ یونیورسٹی کو غریب طالب علموں کی تعلیم کے لیے 9 ملین ڈالرز کا ڈونیشن دیا‘ یہ خبر مختلف اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز پر نشر ہوئی جس کے بعد اعجاز الحق کے ذریعے ان کا آرمی چیف سے رابطہ ہوا اور دسمبر 2023 میں ان کی جنرل عاصم منیر سے واشنگٹن میں ملاقات ہوئی اور یہاں سے ان کوششوں کا آغاز ہوا جس پر اس وقت پی ٹی آئی کے ٹرولرز اور یوٹیوبرز ماتم کر رہے ہیں۔چوہدری تنویر احمد نے عاطف خان کو سمجھایا بانی کو سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز جیل تک لے گئے ہیں‘ہم نے اگر کوشش نہ کی تو خان کی پوری زندگی جیل میں ضایع ہو جائے گی‘ ہمیں چاہیے ہم آگے بڑھ کر کوئی درمیان کا راستہ نکالیں‘ اس سے خان بچ جائے گا اور ملک بھی بدنام نہیں ہوگا‘چوہدری تنویر احمد کا موقف تھا امریکا میں پوری دنیا کے لوگ موجود ہیں لیکن ہمارے علاوہ کوئی کمیونٹی اپنے آبائی ملک کے خلاف کمپیئن نہیں کرتی‘ دنیا کے تمام ملکوں کے اندر مسائل موجود ہیں لیکن کسی ملک کے باشندے اقوام متحدہ‘ وائیٹ ہاؤس اور سڑکوں پر اپنے ملک کے خلاف نعرے نہیں لگاتے جب کہ ہم امریکا میں اپنے ملک کی بے عزتی کر رہے ہیں جس کا نقصان ملک کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی ہو رہا ہے لہٰذا ہمیں آگ بجھانے والوں کا کردار ادا کرنا چاہیے‘ آگ بھڑکانے والوں کا نہیں‘ یہ ڈائیلاگ کاری گر ثابت ہوا اور چوہدری تنویر احمد اور خان کے امریکی پاکستانی دوستوں نے پل کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا‘ تنویر احمد نے ریاستی اداروں کو بھی قائل کر لیا کہ آپ ہمیں موقع دیں ہم عمران خان کو سمجھا کر درمیان کا راستہ نکالتے ہیں۔

 انھیں بتایا گیا اسٹیبلشمنٹ خان سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گی ہاں البتہ آپ اگر پی ٹی آئی اور حکومت کو ساتھ ساتھ بٹھا سکتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا‘ یہ ایک بڑی رعایت اور موقع تھا چناں چہ تنویر احمد اور سردار عبدالسمیع نے اکتوبر اور نومبر 2024میں جیل میں بانی سے متعدد ملاقاتیں کیں اور ان کے نتیجے میں معاملات بڑی حد تک سیٹل ہو گئے‘ بشریٰ بی بی بھی ان ڈائیلاگ کے نتیجے میں جیل سے رہا ہوئیں لیکن پھر اچانک پی ٹی آئی نے 24 نومبر کے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا‘ اس کی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ تھے‘ ٹرمپ الیکشن جیت گیا اور اس کے بعد پی ٹی آئی کو محسوس ہوا ٹرمپ آنے والے دنوں میں ہمارے لیے لائف لائین ثابت ہو گا چناں چہ خان نے اپنے سارے انڈے ٹرمپ کی ٹوکری میں ڈال دیے اور یہ سیٹل منٹ کے وعدے سے پیچھے ہٹ گیا‘ یہ چوہدری تنویر احمد اور ان کے ساتھیوں کے لیے حیران کن تھا‘انھیں خان کے پیچھے ہٹنے کی ہرگز توقع نہیں تھی لیکن یہ ہوا اور یوں ان کی سال بھر کی محنت ضایع ہو گئی۔

 بہرحال قصہ مختصر24 نومبر کا احتجاج بری طرح ناکام ہوا اور ٹرمپ کا کارڈ بھی خان کے حق میں استعمال نہ ہو سکا اور خان نے دوبارہ تنویر صاحب کی طرف دیکھنا شروع کر دیا یوں فروری 2025 میں سیٹل منٹ کی ایک اور کوشش شروع ہوئی۔ تنویر احمد کے ذریعے امریکا کے تین پاکستانی ڈاکٹروں نے آرمی چیف کے دفتر سے رابطہ کیااور خان کے معاملے میں آرمی چیف سے ملاقات کی درخواست کی‘ انھیں جواب دیا گیا آرمی چیف سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے‘ آپ ڈی جی آئی سے ملاقات کر لیں‘ انھیں یہ بھی بتایا گیا پی ٹی آئی نے اگر کوئی سیاسی ڈائیلاگ کرنا ہے تو یہ حکومت کے ساتھ ہی ہو سکیں گے‘ بہرحال قصہ مزید مختصر اس وفد کی مارچ کے دوسرے مہینے میں اسٹیبلشمنٹ کے دوسرے پاور فل عہدیدار سے ملاقات ہو گئی۔

ملاقات میں ڈاکٹر منیر خان‘ ڈاکٹر عثمان ملک‘ ڈاکٹر سائرہ بلال‘ چوہدری تنویر احمد اور سردار عبدالسمیع شامل تھے‘ وفد میں شامل تینوں ڈاکٹرز عمران خان کے دوست ہیں‘ یہ پارٹی میں بھی شامل ہیں‘ ان کی اڑھائی گھنٹے ملاقات ہوئی‘ ملاقات میں فیصلہ ہوا اگر پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے رضا مند ہے تو یہ حکومت سے رابطہ کرے‘ اسٹیبلشمنٹ اسے خوش آمدید کہے گی‘ انھیں یہ بھی بتایا گیا عمران خان اگر واقعی سیریس ہیں تو پھر انھیں اپنے سوشل میڈیا کو لگام دینا ہو گی‘ سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز کی نفرت کے ساتھ مذاکرات اور معاملات نہیں چل سکتے‘ عمران خان کے دوستوں نے اتفاق کیا اور خان کو سمجھانے کا وعدہ کیا‘ ان لوگوں نے بعدازاں جیل میں عمران خان سے ملاقات بھی کی۔

یہ ایک بڑا بریک تھرو تھا لیکن اس بریک تھرو کو بھی سوشل میڈیا اور عمران خان کے مہربان یوٹیوبرز نگل گئے‘ رہی سہی کسرجعفر ایکسپرس کی ہائی جیکنگ پر پارٹی کے رویے نے پوری کر دی‘ یہ ملاقات جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ کے دوران ہوئی تھی اور پاکستان تحریک انصاف کا سوشل میڈیا باقاعدہ بی ایل اے کو سپورٹ کر رہا تھا‘ عمرانی وفد نے بعدازاں عمران خان کو سمجھایا ‘ انھیں مذمت کا مشورہ بھی دیا گیا لیکن عمران خان نے وعدے کے باوجود جعفر ایکسپریس کے اغواء کی مذمت کی اور نہ افواج پاکستان کی سوشل میڈیا ٹرولنگ رکوائی‘اس سے مذاکرات کی اس کوشش کو بھی ٹھیک ٹھاک دھچکا لگ گیا‘ رہی سہی کسر پارٹی کے مہربان یوٹیوبرز نے پوری کر دی۔

 وفد کے ایک ممبر (یہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں) نے اسلام آباد روانگی سے قبل ایک سابق صحافی اور موجودہ یوٹیوبر کو میٹنگ کی اطلاع دے دی تھی اور یہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی لہٰذا یوٹیوبر نے ملاقات سے پہلے ہی وفد کے کپڑے پھاڑنا شروع کر دیے‘ ملاقات کے بعد بھی ان لوگوں نے یوٹیوبر کو ’’مواد‘‘ فراہم کر دیا اور یوں یہ بڑا بریک تھروبھی سوشل میڈیا کے گٹر میں گھل کر ضایع ہو گیا اور ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا عمران خان کی ضد اور سوشل میڈیا کی نفرت دونوں نے مل کر عمران خان کی سیاسی قبر کھوددی ہے ‘ یہ بھی ثابت ہو گیا پی ٹی آئی میں ایک بھی ایسا سمجھ دار شخص موجود نہیں جو معاملات کو سلجھا سکے۔

 یہ سب لوگ آگ میں تیل پھینکنے والے ہیں اور ان کی زندگی کا صرف ایک مقصد ہے خان جیل میں رہے تاکہ ان کی سیاست اور وی لاگ چلتے رہیں اور یہ لوگ اس نیک کام کے لیے روزانہ بارود کا نیا ذخیرہ جمع کرتے رہیں اور اس بارود کا صرف ایک ہدف ہوتا ہے اور وہ ہے خان چناں چہ کہا جا سکتا ہے پی ٹی آئی بری طرح یوٹیوبرز کے ہاتھوں میں یرغمال بن چکی ہے اور ان لوگوں کی موجودگی میں پارٹی چل سکتی ہے اور نہ خان۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چوہدری تنویر احمد تنویر احمد اور عمران خان کے سوشل میڈیا امریکا میں سے ملاقات پی ٹی آئی کرتے ہیں آرمی چیف ہوا اور ثابت ہو اور خان کے ساتھ ہیں اور جیل میں رہے ہیں کر دیا اور ان اور یہ ملک کے یہ بھی خان کو خان کی کے بعد

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان