پی ایس ایل سیزن 10 کا آج سے آغاز، مگر اتنی خاموشی کیوں ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
تو آج سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں سیزن کا باقاعدہ آغاز ہورہا ہے، مگر شاید یہ پہلا سیزن ہے جس کے شروع ہونے سے پہلے ہی متعدد تنازعات نے جنم لیا اور اب تک لے رہے ہیں۔ مگر ان تمام تر تنازعات کے باوجود مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس بار لیگ کا وہ ماحول نہیں بن سکا جو اس سے پہلے بنتا چلا جارہا تھا، حالانکہ تنازعات تو بنائے ہی اس لیے جاتے ہیں کہ خوب ماحول بنے۔
تو چلیے ایک ایک کرکے تنازعات پر بات کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو غیر ملکی کھلاڑیوں کی دستیابی پر باتیں بنیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جن کھلاڑیوں کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں منتخب نہیں کیا گیا وہ پاکستان آگئے۔
بالکل ایسا ہی ہوا ہے اور میرا خیال ہے کہ نہ اس میں شرمندہ ہونے کی ضرورت ہے اور نہ احساس کمتری کا شکار ہونے کی، کہ ہمارا جو سائز ہے، ہمارا جو بجٹ ہے اس کے مطابق ہی کھلاڑی اس لیگ کا انتخاب کریں گے۔ دوسری بات یہ کہ یہ باتیں اس لیے بھی ہوتی ہیں کہ ہم غیر ضروری طور پر آئی پی ایل سے متاثر ہیں اور ہر چیز کا اسی سے مقابلے کرتے ہیں، حالانکہ دنیا بھر کی دیگر لیگز دیکھ لیں آپ کو کہیں بھی صف اول کے کھلاڑی نظر نہیں آئیں گے مگر اس کے باوجود بگ بیش لیگ بھی چل رہی ہے اور دی ہنڈریڈ بھی۔
ہمارے لوگوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمیشہ دوسروں سے مرعوب رہتے ہیں، حالانکہ یہ ایک عام فطرت ہے کہ جس کھلاڑی کو جہاں زیادہ پیسے ملیں گے وہ وہیں جائے گا، تو جب تک ہم آئی پی ایل سے زیادہ بجٹ نہیں بناسکتے تب تک یہ صورتحال رہے گی اور اسی کے مطابق ہمیں آگے بڑھنا پڑے گا۔ پھر ایک اور معاملہ بھی ہے جس پر ہم توجہ نہیں دیتے۔
یہ جو غیر ملکی کھلاڑی ہیں انہیں ایک ایسا ماحول بھی چاہیے ہوتا ہے جس میں وہ خود کو اجنبی محسوس نہ کریں، اگر آپ کا آئی پی ایل دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہاں ہر کھلاڑی انگریزی میں بات کرسکتا ہے اور غیر ملکی کھلاڑی خود کو ان سے الگ محسوس نہیں کرتے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں معاملہ مختلف ہے۔ حتیٰ کہ 5 ٹیموں کے کپتان بھی غیر ملکی کھلاڑیوں سے کمیونیکیشن نہیں کرپاتے بلکہ ٹیم میٹنگ بھی اردو زبان میں ہورہی ہوتی ہے، تو یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں غیر ملکی کھلاڑی خود کو الگ الگ محسوس کرتے ہیں۔
جب میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جس کھلاڑی کو جہاں زیادہ پیسے ملیں گے وہ وہیں جائے گا تو اس کو ثابت کرنے کے لیے میرے پاس مثالیں بھی ہیں۔ سب سے پہلے ہیری بروک کی مثال لے لیتے ہیں۔ ہیری بروک کو دہلی کیپیٹل نے خریدلیا مگر جب بروک کو یہ لگا کہ جن پیسوں میں انہیں خریدا گیا وہ کم ہیں تو انہوں نے آئی پی ایل نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا اور اس بات پر آئی پی ایل نے ایکشن لیتے ہوئے ہیری بروک پر 2 سال کی پابندی لگادی۔
بالکل اسی طرح جنوبی افریقی کھلاڑی کاربن بوش پر پی ایس ایل نے پابندی لگائی کیونکہ پشاور زلمی نے انہیں ڈائمنڈ کیٹیگری میں منتخب کیا تھا، مگر بعد میں آئی پی ایل میں ممبئی انڈینز نے ایک کھلاڑی کے انجرڈ ہونے کی صورت میں بوش کو پک کرلیا اور یوں انہوں نے پی ایس ایل چھوڑ کر آئی پی ایل کا انتخاب کرلیا۔
یہ دونوں مثالیں بتاتی ہیں کہ اب کھلاڑی کے لیے سب سے بڑھ کر اہمیت پیسوں کی ہے، جو زیادہ پیسے دے گا وہ کھلاڑی اسی کا ہوجائے گا پھر چاہے وہ لیگ چھوٹی ہو یا بڑی، یہ غیر اہم بات ہوگئی ہے۔
دوسرا تنازعہ علی ترین کے بیان کے بعد پیدا ہوا جس میں انہوں نے اس بات پر اعتراض اٹھایا کہ پی ایس ایل 10 کس طرح ماضی سے بڑی اور بہتر لیگ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے کھوکھلے دعوؤں سے بچنا چاہیے کہ اس بار نہ ٹیموں میں اضافہ ہوا، نہ اسٹیڈیمز میں اور نہ کسی بھی دیگر پہلو میں کوئی بہتری دیکھنے میں نظر آئی۔
علی ترین کے اس بیان کے فوری بعد سلمان اقبال کا جوابی بیان آیا اور انہوں نے علی ترین کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل پاکستان کی پہچان ہے اور اس بارے میں ایسے بیانات افسوسناک ہیں، حالانکہ میری نظر میں علی ترین کی بات بالکل ٹھیک ہی تھی۔
علی ترین نے تنقید سے زیادہ لیگ انتظامیہ کو جگانے کی کوشش کی کہ جناب بتدریج پی ایس ایل نیچے کی طرف آرہی ہے، اس میں وہ کلر اب نظر نہیں آرہا جو ماضی میں آتا تھا، اس میں عوام کی وہ دلچسپی بھی نظر نہیں آرہی جو پہلے آتی تھی، اور جب تک اس بات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا تب تک چیزیں بہتر بھی نہیں ہوسکیں گے۔
اب آپ خود دیکھیے کہ گزشتہ 9 سالوں میں ہم اب تک ہوم اور اوے میچز نہیں کروا سکے۔ پشاور اور کوئٹہ کے اسٹیڈیمز اب تک بحال نہیں ہوسکے، یعنی جب تک 2 صوبے اس پورے معاملے سے الگ رہیں گے تب تک عوامی مقبولیت میں اضافہ کیسے ہوگا؟
ان تمام تر حالات کی موجودگی میں لیگ بائیکاٹ کی مہم نے بھی پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اب لوگ دھڑلے سے کہہ رہے ہیں کہ جب تک غیر ملکی مصنوعات کے اشتہارات ختم نہیں کیے جائیں گے تب تک وہ لیگ نہیں دیکھیں گے۔
اس بائیکاٹ مہم کا اثر کتنا ہوتا ہے یہ تو آنے والے دنوں میں معلوم چلے گا مگر اس مہم کی وجہ سے لوگوں میں تقسیم واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ وہ سارے پہلو ہیں جس پر پی ایس ایل انتظامیہ کو غور کرنا چاہیے، ہم محض یہ بات کہہ کر لوگوں کو توجہ حاصل نہیں کرسکتے کہ پی ایس ایل پاکستان کی پہچان ہے، بلکہ اسے بہتر اور دلچسپ بنانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے، اگر ایسا کچھ نہیں ہوا تو صورتحال مزید خراب بھی ہوسکتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گزشتہ 15 سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں، اس وقت وی نیوز میں بطور نیوز ایڈیٹر منسلک ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل پی ایس ایل انہوں نے علی ترین سے پہلے ہیں کہ کے لیے ہے اور نہیں ا
پڑھیں:
ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔
زیرِ زمین عسکری نیٹ ورکقشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔
ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
زیرِ زمین ’میزائل سٹیز‘ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔
ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔
عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخآبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔
اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذقشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔
ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران کا قشم جزیرہ